Sale!

نُوائے راز شاعری

$14.00 $12.00

  • File Size: 3.0 MB
  • Length: 200 pages
  • Publisher: ANish Publications
  • Publication Date: November 12, 2019
  • Language: Urdu
  • Author: Muattar Ali

Out of stock

Description

دل کی بستی پہ راج تیرا ہے

مجھ میں سارا مزاج تیرا ہے

نوائے راز، دل جنوں آمیز

مجھ میں یہ امتزاج تیرا ہے

یہ علی معطر کا تازہ شعری مجموعہ ہے۔ جو کہ مخزنِ دل کی روایت کو قائم رکھے ہوئے ہے۔  شامِ ذندان سے ابتدا ہے اور بعدالتِ عشق،  پیامِ مشرق کے عنایات کے ذکر کے  ساتھ ایک  جاں بلب مسافر کے اپنے بازو قلم کرنے کی روداد کے ساتھ خُود کلامی اور خُدا  کلامی کی عکاسی کرتی ہے۔ خُداکلامی جب کمال پر پہنچتی ہے تو خُود احتسابی شروع ہو کر شاعر سے خُدایا کیسا ستم گر رہا ہوں کی گردان کروا کے ہی چھوڑتی ہے۔

 زلفوں کی چھاؤں میں بیٹھ کر وطن کے  حالات پر سوالات صورِ اسرافیل کے غمِ جاناں اور غمِ دوراں کا امتزاج ہے۔ زندگی بھی بس  اک حکایت ہو کی آرزو کے ساتھ نفرت کی نفسیات اور اک عجیب لڑکی کی داستان کے ساتھ سکردو میں لکھے ہوئے نظم ’’میں شاعر ہوں‘‘ کے ساتھ دم ِرخصت‘ صلائے محرمانہ کی موجودگی میں شامِ دشت میں صدیاں گزارنے کے بعد بھی اشکوں سے خالی آنکھوں کی اَن کہی باتیں دلِ شاعر کو بیچین رکھتی ہیں۔

خُواب جب ہزاروں ہوں تو شاعر بیساختہ پکار اُٹھتا ہے۔ کہ کسے سولی چڑھاؤں میں؟ اور آگے بڑھ کر خُود محبت سے پوچھتے ہیں کہ محبت کیا ہے تو آخر؟ سروشِ جبریل اور اُم الکتاب کے متعلق بتانے کے بعد زندگی سے مخاطب ہو کر اپنے جرم کا اعتراف کرتے ہیں  کہ واقعی جرمِ تخلیق کی سزا یا تو تنہائی سے باتیں ہیں یا تین قطرے خون۔

رفیقِ شبِ ہجراں میں سربداران کے تذکرے میں اپنے زندہ ہونے کے اعلان کے ساتھ محتسب سےگوجر خان کے متعلق کہتے ہیں کہ بدلنا اک حقیقت ہے اور حقیقت خواب جیسی ہے۔ وہ مانتے ہیں کہ جنون زہر ہے مگر اپنی محبوب شخصیت سے چند روز اور مہلت مانگتے ہوئے کہتے ہیں کہ چند روز اور میری جان! فقط چند ہی روز، اور پھر آخر میں اپنی جانِ تمنا    سے پیامِ امن کی بات کر کے اس مجموعے  کو ختم کرتے ہیں۔