Literature,  Urdu

پیار کا موسم

حُسن فریب ہے، دھوکہ ہے اک بہانہ ہے

دلِ باغی بھی جُستجو میں ہے، دیوانہ ہے

رقص باطل ہے، سُوختہ دل کے یہ نغمے بھی حرام

رباب شکستہ ہے اور تار عاشقانہ ہے

چمن کی بُلبُلیں نوحوں سے ہیں بیزار ابھی

وگرنہ گریہ تو اک فعلِ باغیانہ ہے

چمن کی ابرو عزت دلِ باغی کے لیے

قسم خُدا کی ہر اک بار تازیانہ ہے

اگرچے میں نے معؔطر کو بہت سمجھایا

اڑا تھا وہ میرا انداز شاعرانہ ہے

Leave a Reply