Blog Literature Urdu

قطرہ قطرہ اشک

قطرہ قطرہ اشک

اس سوختہ دل کی دعائیں تمہارے ساتھ ہیں دوست

بس کچھ مہلت اگر آوارگی سے مجھ کو ملے

میں اپنے دیس کے سب بلبلوں کو یاد رکھتا ہوں

میں شاخِ گُل ہوں پھولوں کو یاد رکھتا ہوں

جاگتی آنکھوں میں نیندوں کے خمار اچھے ہیں

پیار کے دھاگے جو اپنے ہیں بہت کچے ہیں

یہ معطؔر کہے بھی کیسے تمہیں سب کے بیچ

آپ جھوٹے ہیں اور ہم بیچارے سچے ہیں

آخر چلے وہ آئے ہماری گلی کے سنگ

جیسے ہوا چلی ہو کسی بند گلی کے سنگ

آہ! امتحانِ شوق کا پرچہ سہل نہیں

 

 خود ہی محفل کا ساقی بھی، میخوار بھی

میں طلبگار بھی ہوں اور بیزار بھی

Leave a Reply

Ready to get started?

Are you ready
Get in touch or create an account.

Get Started