Literature,  Urdu

روشِ جہاں

آج سارے بت اس دل کے مجھے توڑنے پڑے
انسان کی رگوں سے رشتے جوڑنے پڑے
ظالم سماج تھا میرا، میں نے جو کی خطا
انکو بھی تازیانے ذرا موڑنے پڑے
کچھ عادتیں خراب تھیں، میرے سماج کی
مجھکو بھی کچھ اُصول ذرا چھوڑنے پڑے
پائمال زندگی میں غلامی کے جامِ جم
غصے میں آکے مجھکو سبھی توڑنے پڑے
گرچے خطا نہیں ہے معطر یہ زندگی
لیکن روش جہاں کے مجھے چھوڑے پڑے

Leave a Reply