kalam e muattar
Urdu,  ادب,  بلاگ,  شاعری

روشنی قید ہے عالم کے شبستانوں میں

روشنی قید ہے عالم کے شبستانوں میں

جسے میں ڈھونڈھتا پھرتا ہوں آسمانوں میں

ہے وہ عالم بھی وہی، محفلِ فردا بھی وہی

لوگ پھرتے ہیں محبت کے نگہبانوں میں

کسے معلوم ہے لذت و سرودِ محفل

آؤ کچھ بت بنے دیکھیں ہم اِن انسانوں میں

حُسن ایک گوہرِ مراد میرا تھا لیکن

وہ اب ملتا ہی نہیں ابھی اِن کھلیانوں میں

کتنے منحوس سے اشکال ہیں میرے آگے

اب کسے ڈھونڈوں میں لذت بھرے میخانوں میں

شورشِ دل اب کہ خاموش بھی ہو جا کہ تو

ابھی ناداں ہے، ناسمجھ ہے اِن میدانوں میں

کوئی ملتا ہی نہیں درد آشنا جس سے

کچھ تو کہدوں میں ابھی درد بھرے آشیانوں میں

نغمۂِ درد وہی، شورشِ پروانہ وہی

کوئی آجائے تو میرے اِن بے زبانوں میں

رقص زندان میں کر،نغمۂِ پُردرد نہ گا

آہ! معطر تو ابھی ہے پڑا بتخانوں میں

مخزنِ درد

Leave a Reply