kalam e muattar
Urdu,  ادب,  شاعری

رعبایات

’’میری دھڑکنوں کو قرار دو‘‘

اپنا عکس دل میں اُتار دو

بس نگاہِ چشمِ یار تو

صبح و شام یہی آزار دو

؎

بنا جو پھول تو خاروں کو دعا دیتا ہے

شمع بجھے تو پھر آہوں کو جگا دیتا ہے

اے معطر! اُٹھو نہ روؤ، سامنے میرے

تیرا نغمہ ہی ایسا ہے جو رولا دیتا ہے

؎

تیری محفل میں آنا تھا نہ تجھ سے ملنا تھا

یہ تھا عذاب جو اک دن تو مجھ سے ٹلنا تھا

میں لاکھ بار تھا عاشق و دیوانہ تیرا

اک دن تو مجھے بدلنا تھا۔۔۔

؎

مجھے پہلے سے پتہ تھا کہ تم دغا دو گے

مجھے بے آگ زمانے میں تم جلا دو گے

میری خطا بھی تو معلوم ہو اے جانِ من

یا مجھے یونہی اپنے پیار کی سزا دوگے

؎

موسمِ دل بھی تو بدلتا ہے

ہر جگہ دل والا سنبھلتا ہے

ایسے دیوانے میں نے دیکھے ہیں

جن کی آنکھوں میں پیار ملتا ہے

؎

وصل کا نام حیات، حُسن کی یہ رعنائی

کسی وصال کے منزل کی جستجو میں ہے

ہمیشہ ساتھ رہیں یوں کہ نا بچھڑ جائیں

یہی خیال جانے کب سے آرزو میں ہے

؎

آگ جلتی ہے تو حالات بدل دیتی ہے

یہ محبت ہے جو جزبات بدل دیتی ہے

لوگ سمجھتے ہیں کہ پاگل ہیں محبت کے ہاتھ

اک نظر تو اس کی کائنات بدل دیتی ہے

؎

اسیرِ محبت، اسیرِ وفا ہوں

ستمگر یہ دیکھو اسیرِ جفا ہوں

وہ نغمہ نہیں جو سبھی گنگنائیں

سزا دے رہے ہو، بے جرم و خطا ہوں

؎

آجا کہ لمحہ بھر یہ ملاقات ہو نہ ہو

یہ بوند بوند پانی یہ برسات ہو نہ ہو

آجا ذرا تو دیکھنے عاشق کا حالِ زار

یہ کب سے تڑپتا ہے پھر حیات ہو نہ ہو

؎

وفا، جفا، ادا، ستم ہے یہ

لازمی ہیں یہ سب کسی کے لیے

جسے دعوی ہے محبت کا آئے سامنے وہ

کوئی تو مر کے دکھائے کبھی کسی کے لیے

؎

دریا میں، مئے و ساغر و مینا فضول ہے

مر مر کے جینا ہو جو وہ جینا فضول ہے

گردش ایام کی ہے یہاں پر فضول شے

محفل میں بیٹھ کے یونہی پینا فضول ہے

؎

جب بھی میں دل! اُداس ہوتا ہوں

گل کا بے درد لباس ہوتا ہوں

گرچے کرتا ہوں محبت سے کلام

کہاں میں لفظ شناس ہوتا ہوں

؎

آج کل آئینے بھی جھوٹے ہیں

جانے کیوں مجھ سے ابھی روٹھے ہیں

پہلے دیکھتے تھے میری آنکھوں میں

خواب جو اب کہ سارے ٹوٹے ہیں

؎

تیرے جلوؤں کا خرہدار بنا رہتا ہوں

خود اپنے اپ میں بازار بنا رہتا ہوں

نہ مسکراؤ مجھے اپنا سوالی کہہ کے

جان میں بھی بڑا خودار بنا رہتا ہوں

Leave a Reply