Literature,  Urdu

صلیبِ عشق

پھر اُسی صلیب پہ چڑھ گئے

غمِ زیست سے جب بچھڑ گئے

نہ تو روشنی کے اماں میں ہیں

شبِ تار کی پناہ میں ہیں

دلِ قیس و فرہاد و منصور

آہِ لیلٰی و ہیر سے جل اُٹھے

یہ چراغِ راہ کے صلیب ہیں

یہ مسیؔح و میثؔم کی تاک میں

پھر صلیبِ عشق کیونکر خوار ہو

جب باغی بے خطا سرِ دار ہو

جو بھی قرض رکھتے ہیں جان پر

وہ یہ جان لیں، بات مان لیں

ہم اس راہ میں جان سے گزر گئے

تم ٹہر ٹہر کے چلو مگر

میری راہ کو نہ کوتاہ کر

رسمِ بندگی، راہِ عاشقی کب الگ رہیں؟

کب جدا رہیں، بے پروا ہوئیں؟

نہ صلہ، سزا نہ جزا کوئی

ہر ایک خوف سے بے پروا رہو

یہ صلیبِ عشق کی عطا کہو

کسی قیس کو بے نوا کہو

شیخ و پیر و ملا و صوفی کو

اس لہو سے تم نہ جدا کہو

جو بھی قرض رکھتے ہیں جان پر

جو بھی فرض سمجھیں گے مان کو

ان سے یہ کہو، تم بڑھے چلو

یہ صلیب ہے ہر اک راہ پر

نہ ہی جسم و جاں تم چرا سکو

نہ ہی خود کو تم کچھ بچا سکو

یہ صلیبِ عشق ہے ابد تلک

جو چلو تو سوئے خُدا چلو۔۔۔۔

مخزنِ درد

Leave a Reply