Blog Literature Urdu

سپنا

پھر کسی خواب کو گم گشتہ نگاہوں کا بھرم

چند لفظوں سے ردی کردہ خیالات لیے

آنسوؤں سے جو تڑپتے رہے لاشے اپنے

ظلم خوابیدہ بستیوں کی جھونپڑیوں کےلیے

کرن جو روزنِ دیوار میں اکثر آئی

ہونٹ تشنہ ہیں، لبِ جام! رخ ادھر بھی کبھی

اس شب گزیدہ سحر کا کوئی ساماں بھی نہیں

دل کسی بے نوا ساحل کا نگہباں بھی نہیں

یاد پھر درد سے جڑ کر میرے دل میں آئی

خواب دلکش ہی سہی، پر درد کا کیا رشتہ مجھ سے

یاد لفظوں میں قید کرکے سوئے دار چلے

شب میری یادوں کی بارات سے الجھی ہی رہی

مست آنکھوں میں ہے خمارِ محبت اب تک

دل ابھی روزنِ خیال کا عادی نہ بنا

شرطِ واحد تھی سرِ دار میں چڑھ کر دیکھوں

موت کیا چیز ہے، حیات سے نجات کیا

دل ابھی روٹھ کے اُٹھا ہے تیری محفل سے

خاکدوں کا کسی خرابے کا جوگئِ زمان

درد کے سارے سرحدوں کو یہ پھلانگ آیا

دل میرے دل! کہ شکستہ ہے آئینۂِ وجود

مقتلِ زیست کا ہر بوجھ سنبھالا تو نے

نفس کے اندھیر نگری میں کیا ہے اُجالا تو نے

کتنا ہمراز ہے، ہمساز و بے نیاز ہے تو

میرا گواہ بھی تو، منصف میرا وکیل بھی تو

غمِ جہان سے رشتہ میرا گہرا کر دے

تو اپنے ہاتھ سے سپنا میرا سچا کر دے

Last Updated on April 15, 2021 by ANish Staff

Leave a Reply