kalam e muattar
Urdu,  ادب,  شاعری

سپنا

پھر کسی خواب کو گم گشتہ نگاہوں کا بھرم

چند لفظوں سے ردی کردہ خیالات لیے

آنسوؤں سے جو تڑپتے رہے لاشے اپنے

ظلم خوابیدہ بستیوں کی جھونپڑیوں کےلیے

کرن جو روزنِ دیوار میں اکثر آئی

ہونٹ تشنہ ہیں، لبِ جام! رخ ادھر بھی کبھی

اس شب گزیدہ سحر کا کوئی ساماں بھی نہیں

دل کسی بے نوا ساحل کا نگہباں بھی نہیں

یاد پھر درد سے جڑ کر میرے دل میں آئی

خواب دلکش ہی سہی، پر درد کا کیا رشتہ مجھ سے

یاد لفظوں میں قید کرکے سوئے دار چلے

شب میری یادوں کی بارات سے الجھی ہی رہی

مست آنکھوں میں ہے خمارِ محبت اب تک

دل ابھی روزنِ خیال کا عادی نہ بنا۔۔۔

شرطِ واحد تھی سرِ دار میں چڑھ کر دیکھوں

موت کیا چیز ہے، حیات سے نجات کیا

دل ابھی روٹھ کے اُٹھا ہے تیری محفل سے

خاکدوں کا کسی خرابے کا جوگئِ زمان

درد کے سارے سرحدوں کو یہ پھلانگ آیا۔۔۔

دل میرے دل! کہ شکستہ ہے آئینۂِ وجود

مقتلِ زیست کا ہر بوجھ سنبھالا تو نے

نفس کے اندھیر نگری میں کیا ہے اُجالا تو نے

کتنا ہمراز ہے، ہمساز و بے نیاز ہے تو

میرا گواہ بھی تو، منصف میرا وکیل بھی تو

غمِ جہان سے رشتہ میرا گہرا کر دے

تو اپنے ہاتھ سے سپنا میرا سچا کر دے

Leave a Reply