words
Literature

Saqut e Dhaka by Jon Elia

Spread the love

استفسار
(16 دسمبر 1971، سقوط مشرقی پاکستان پر)

کیا اسقدر حقیر تھا اس قوم کا وقار
ہر شہر تم سے پوچھ رہا ہے جواب دو
یہ بات کیا ہوئی کہ بیابان وقت میں
احساس تشنگی کو بڑھا کر سراب دو
ہم کو تھپک تھپک کے دکھائے گئے تھے خواب
خاموش کیوں ہو؟ اب ہمیں تعبیر خواب دو
جو صرف گلستاں نہ ہوا رائگاں گیا
اس خونِ شاہدانِ وفا کا حساب دو

٭

ملت کے احترام کو رسوا کیا گیا
پر حوصلہ عوام کو رسوا کیا گیا
لینا تھا اس زمیں پہ شفق سے جسے خراج
اس رنگ صبح و شام کو رسوا کیا گیا
تھیں اپنے حوصلوں کی صفیں جس سے آہنیں
اس نظم، اس نظام کو رسوا کیا گیا
نازاں تھا جس پہ منزل عظمت کا اعتبار
اس شوکت حِرام کو رسوا کیا گیا
تاریخ جس کے سامنے رہتی تھی سجدہ ریز
اس عظمتِ دوام کو رسوا کیا گیا
اے غازیو جہاد کی توہین کی گئی
اے شاعرو کلام کو رسوا کیا گیا
جو لکھ رہے تھے خون سے تاریخ فصل رنگ
ان نامیوں کے نام کو رسوا کیا گیا

٭

یہ پوچھتی ہیں وقت سے خود دار پستیاں
جس نے ہمیں فریب دیا ہے، وہ کون ہے؟
کس نے کیا ہے قوم کے زخموں کو بے وقار
جس نے ہمیں ذلیل کیا ہے، وہ کون ہے؟

٭

کس نے کہا کہ ہار گئے اپنے حوصلے
ہم اپنے حوصلوں کے رجز خواں ہیں آج بھی
ہم کو شکست ولولہِ جاں نہیں قبول
ہم پاسدار ولولہِ جاں ہیں آج بھی
ہم جو لہو لہان ہوئے حق کے واسطے
ہم لوح روزگار کا عنواں ہیں آج بھی
کھائے ہیں ہم نے زخم اٹھائے ہیں ہم نے داغ
ہم نامدار رنگ بہاراں ہیں آج بھی

٭

ناقابل شکست ہیں اس قوم کے عوام
اس قوم کے عوام کی تعظیم کیجیے
یہ قوم آج بھی ہے سر افراز و سر خرو
اس قوم کے جلال کو تسلیم کیجیے

٭

مانا نہیں ہے ہم نے غلط بندوبست کو
ہم نے شکست دی ہے ہمیشہ شکست کو

جون ایلیا

Leave a Reply

%d bloggers like this: