Literature,  Urdu

سرِدست اُن سے کہنا۔۔۔

حالِ من خراب ہے نا

نہ زمانے کی رسوائی

لپٹے مجھ سے نہ شیدائی

میرے ہم نفس سے کہنا

اسکی یاد مسلسل ہے

جو دیا ہے اس نے مجھ کو

وہ فریاد مسلسل ہے

لو چراغ بجھ گئے اب

ہیں چاروں جانب کتابیں

بس کمی ہے تو تمہاری۔۔۔

یہ فتورِ ذہن ہے پر

تمہیں بھول کے نہ بھولے

تیری یادوں کے ہیں جھولے

اب بھی لفظ تڑپتے ہیں

کان آواز کو ترستے ہیں

وہ آواز جسکو سن کے

روز پھر نیند آجاتی تھی۔۔۔

وہ کوئل سی یا بلبل کی آواز ہی جیسی تھی

سن نہ پاتا جسکو جس دن

نیند پھر روٹھ کے نہ منتی تھی

وہ سحر بھری نگاہیں

دیکھنے کو ترستے ہیں، تڑپتے ہیں

وہی لمس جس کو پا کے

آنکھیں بند ہی رکھتے تھے

وہی ناز جو اٹھائے اب زمانہ ہو گیا ہے

جانے موت کیوں نہیں ہے

جانے بیہوشی صحیح ہے

میرے پاس کیا نہیں ہے

تو نہیں تو کیا کمی ہے

سرِدست ان سے کہنا۔۔۔

Leave a Reply