Literature,  Urdu

سایٔہِ گُل

وہ قدر اپنی پھر سے دلاتے رہے مجھے

ہم چپ تھے کہ جہاں میں محبت نہیں رہی

فرصت تھی تو کرتے، سایۂِ گل میں گفتگو

اب جانِ من! اس جان کو فرصت نہیں رہی

سہتے رہے ستم ہی ستم تیرے ہاتھ سے

اب ناتواں ہوں اب مجھ میں طاقت نہیں رہی

کرتے تھے گل سے ہم بھی محبت کی آرزو

لفظوں میرے اب کوئی لذت نہیں رہی

آئے تھے بہت لوگ زندگی میں، چل دئیے

اب ہمکو بھی کسی کی ضرورت نہیں رہی

ہم کسطرح یہ کہتے معطؔر خدا گواہ

فرصت نہیں رہی تو محبت نہیں رہی

Leave a Reply