Literature,  Urdu

شبِ وصال

مل لیے ان سے شبِ غم کا تذکرہ نہ ہوا

ضبط کے زنجیروں میں

خود کو کیوں الجھاتے ہو

کس لیے ستاتے ہو

الجھے من کے تاروں میں

دلنشیں نظاروں میں

میں ہی تو نہیں ملتا

ساری داستانوں میں

دربدر دیوانوں میں

تذکرہ ہوا میرا

دربدر رہا یہ دل

تم کو نہ خبر ہوئی

آہ! بے اثر ہوئی

حرف حرف جوڑا تھا

یوں اور یوں کہوں گا میں

تم ہی مسکرائے کیوں۔۔۔

میں اگر گرا ہوں تو

اٹھ کے کچھ تو کرنا ہے

روز روز جیتے ہیں

روز روز مرنا ہے۔۔۔

تم اگر دعا دو گے

آگ سے جلا دو گے

شامِ غم بھلا دو گے

درد بھی بڑھا دو گے

خود کو تم سے جبراً ہی

الگ کروں تو کیا دوگے

کیا سوال اور کیا جواب

کس طرح نشہ دوگے

یونہی تم سزا دوگے

بے خطا مروا دو گے

کچھ کہو نا جانِ من

Leave a Reply