kalam e muattar
Urdu,  ادب,  شاعری

شب کو مانگی تھی دعا یاد نہیں

شب کو مانگی تھی دعا، یاد نہیں

مجھے اپنی ہی نوا یاد نہیں

راہ پہ کل جو فقیر گزرا تھا

دی تھی اس نے کیا صدا یاد نہیں

پاس آکر بھی منہ چھپاتے ہو

ہے یہ کیا تیری ادا، یاد نہیں

میں تیرے پاس تھا محفل میں جو

دی تھی تم نے کیا سزا یاد نہیں

تم تو دل میں تھے، پھر نجانے کیوں

مجھ سے ہوئے تھے جدا، یاد نہیں

کل شب پوچھا تھا تم نے مجھ سے کیا

تم بھی رکھتے ہو خدا، یاد نہیں

کیوں معطر کو مارتے ہو تم

کیا یہ ہے سچ کی سزا، یاد نہیں

مخزنِ درد

Senior writer, author, and researcher at AromaNish, specializing in Psychology with an impact on information technology. As a writer, he writes about business, literature, human psychology, and technology, in blogs and websites for clients and businesses. Enjoys reading, writing and traveling when he is not here with us...

Leave a Reply