Literature,  Urdu

شاعر جہاں سے۔۔۔

بے رخ ستمگر سے

بے رخی کے لیے جنت ہے پڑی

میں تو بے زار دوزخوں میں ہوں

مجھ سے یہ بے رخی نہیں اچھی

راگ کچا ہے بات پکی ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دوست سے

تمہارے شہر کے اس بےسمت سمندر میں

میں کھو گیا ہوں میرا فن بھی کھو گیا ہے دوست

وہ دل کہ جس میں ہزاروں طوفان آکے رکے

اٹھو کہ ڈھونڈیں، تیرا شہر سو گیا ہے دوست

۔۔۔۔۔۔۔۔

خوابیدہ جاناں سے

شوق سے سونا، پر ذرا سوچو

کس کو کس سے چرا کے سوئے ہو

خود کو خود سے چھپا کے روئے ہو

کیا پتا جانِ من! قسم تیری

میں کچھ بھی جانتا نہیں ہوں نا۔۔۔

انتظار سے

یہ انتظار کتنا مشکل ہے

لوگ کب سے آہ! انتظار میں ہیں

کتنے لوگ اب بھی شبِ تار میں ہے

۔۔۔۔۔

محتسب سے

میں مرنا چاہتا ہوں اے محتسب!

زہر دے دو مجھے سزا کے لیے

میرے نغمے بکھیر دینا پھر

شہر بھر میں مگر خدا کے لیے

مجھے سولی چڑھا رہے ہو کیوں

سچ، محبت اور وفا کے لیے

بازارِ حیات

مجھے معلوم ہے لذت کہ جو شراب میں ہے

وہ میرے یار کے ہونٹوں سے ٹپکتا دیکھو

میرے فن کو بھی تم بازار میں بِکتا دیکھو

اک بے وفا سے

ہم نے لکھنا تھا تیرا نام ہر مزار پہ دل

کہ مزاروں نے کہا رو کے تم خُدا کے لیے

لکھو نہ نام بس اس کا جو بے وفا نکلا

ہم بے زباں سہی، اس جیسے بے وفا تو نہیں

طبیب سے

زخمی دل کا علاج کیا کرتے

ہمیں اپنوں نے زخم دئیے ہیں

کچھ تو چاقو نے کچھ اداؤں نے

ہمیں دوستوں نے زخم دئیے ہیں

کتنے حسین زخم ہیں نا یہ۔۔۔!

طفلِ مکتب سے

زندگی پیار کی پہیلی ہے

اس میں کچھ لوگ ہار جاتے ہیں

زندگی بھر وہ لوگ روتے ہیں

بے ثمر آنسو ہی بہاتے ہیں

کتنے پاگل ہیں نا یہ سارے لوگ۔۔۔؟

دل سے

عشق آتش ہے، محبت تو ایک بہانہ ہے

تو جدھر جائے گا مجھ کو بھی ادھر جانا ہے

ایک عاشق، معطؔر جسے کہتے تھے ہم

آج ایک پیار کے ہاتھوں بڑا دیوانہ ہے

لیلٰی سے

تیرے بغیر کوئی جنت بھی تو قبول نہیں

کسی دوذخ کا مجھے اب سے سوالی کر دو

میں کسی دشت کی مانند اکیلا ہوں جاں!

تم مسافر بنو اور مجھ کو مکمل کردو

تیرے ہونٹوں کی قسم! تجھ کو بھول جاؤں تو

میں اپنے اپ کو سولی پہ پھر چڑھا دونگا

!میرے سانچے میں ڈھلو جانِ من

ایسا قالب کہاں ملے گا تجھے

شاعر سے

لفظ جب ہاتھ باندھ کر آئیں

تب میں اپنی ذات میں الجھتا ہوں

تیرے نخرے سبھی سمجھتا ہوں

شعر سے

تیری عادت ہے مجھ سے ڈر جانا

رات ہوتے ہی اپنے گھر جانا

پہلے کہتے ہو زہر نا پینا

پھر یہ کہتے ہو ابھی مر جاؤ

محبوب سے

مجھے خراج کی شاہی سے فقیری ہے بھلی

میں غلاموں میں نہیں، تو بھی تو شاہوں میں نہیں

مصور سے

جرمِ تخلیق کی سزا ہے یہ

نیمۂِ شب کو بھی بیدار رہو

ادیب سے

کھل کے کہنے کی بات کرنے سے

ادب مرتا ہے، ذات جلتی ہے

خاتون سے

منہ چھپانے سے بھی کیا ہوتا ہے

تو جو ناواقفِ حیا ہے ابھی

دیارِ یار سے

ہمیں فرصت نہیں ملتی وگرنہ دیکھ لیتے تم

تمہارے دیس کے ہر اک گلی میں شام ہو جاتی

تمہارے نام ہو جاتی، تمہارے نام ہو جاتی

کہانی سے

کب تک خواہشوں کی صلیب پہ

تم چتہ میری آہ! جلاؤگی

شامِ غم گزاروگی کس طرح

اپنا غم تم کس کو سُناؤگی

مجھے چھوڑ کر میری جانِ من!

تم بہت بہت پچھتاؤگے

طوائف سے

تم دلپذیر حسیناؤں کے مہکاروں نے

کتنا بدنام کیا مجھ کو ہے جاگیرداروں نے

فقط اک حسن تو الفاظ سے ماورا ہی رہے

کتنا گمنام کیا حسن کو بازاروں نے۔۔۔۔

 

Leave a Reply