Blog Urdu

شہرِ بے نور

شہرِ بے نور سے اب کیا پوچھوں؟

کس کے ہاتھوں پہ لگا مفلس کا لہو؟

کس کے خُوں نے حساب مانگا ہے؟

کس کے ہاتھوں لُٹا غریبِ شہر؟

کس پہ دل کا حساب باقی ہے؟

کون ہے جو دے ہر فلک کی خبر؟

کون دل سے حساب مانگے گا؟

کون ہے چاکِ گریباں پھر سے؟

کون طے دشتِ قیس پھر سے کرے؟

ہم جو اِس شہر کے بے نور مکیں

دور سے تکتے ہیں روشنی کے چراغ

اپنی بے نور زندگی کے چراغ

سراپا آتش و بجلی کا کمال

سراپا محفلِ ہستی کا جمال

حسن پردہ نشینِ محمل ہے

عشق کیونکر رہینِ محفل ہے

اشک دل کی زبانِ پنہانی

لفظ عریاں زبانِ زندانی

رقص، محفل، سراب، خواب ہے کیا؟

درد، لغزش، نقاب، عذاب ہے کیا؟

ہم اس خاموش شہر کے ہیں مکیں

جس کے ہر فرد کو ہے ایسا یقیں

ظُلم و انصاف ساتھ پلتے ہیں

یہاں انسان یونہی جلتے ہیں

ہم اِس بے نور شہر کے ہیں مکیں

جہاں انسان ہی نہیں محفوظ

جہاں انصاف ہی دست بستہ ہے

جہاں قانون زور مانے ہے

جہاں قارون بدلتے ہیں نظام

جہاں نمرود کی خُدائی ہے

ہم اسی شہر کے باشندے ہیں

ہم اسی دہر کے درندے ہیں

یہاں جنگل کا بھی قانون نہیں

یہاں ایمان سبھی بکتے ہیں

یہاں انسان سبھی بکتے ہیں

یہاں ہر بولنے والا مجرم

یہاں ہر قلم پر پابندی ہے

یہاں ہر ظُلم کی اِجازت ہے

یہاں ہر احتجاج ہے پابند

یہاں ہر رقص پر پابندی ہے

یہاں دستورِ زباں بندی ہے

یہاں رائے نہیں آذاد کوئی

یہاں ہر رائے پہ پابندی ہے

یہاں ہر سوچ پر پہروں کا گُمان

یہاں خوابوں کے دیکھنے کی سزا

یہاں جُرمِ تخلیق کون کرے؟

یہاں تعبیر خواب دھونڈے کون؟

یہاں کون اپنا متلاشی ہو؟

یہاں سودائے خُودی کون کرے؟

یہاں نشائے ذات کون کرے؟

یہاں کے لوگ سب ظلمت کے مکیں

یہاں کے لوگ ہیں ذلت کے مکیں

چلو اِس شہر سے اب کوچ کریں

دلِ زندہ کو سلامت رکھیں

شہرِ بے نور سے ہم دور کہیں

اپنے اِس دل کا ٹھکانہ ڈھونڈیں

اپنا بیزار میکدہ ڈھونڈیں

Last Updated on April 15, 2021 by ANish Staff

Leave a Reply