Blog Literature Urdu

شہرِ بے حس

شہرِ بے حس

زندگی کا بھرم، رکھ سکے کیوں نہ ہم

بے خطا دھرگئے کچھ خطا بھی نہیں

شہرِ بے حس میں ہم یونہی پھرتے رہے

بے گناہ مر گئے کچھ گناہ بھی نہیں

آپ شہر کے باسی سمجھ نہ سکے

یہ محبت گواہ ہے، سزا بھی نہیں

جام ہے زندگی کا اگر تلخ تو

میکدہ چھوڑ دے یہ گناہ بھی نہیں

باخدا وہ اگر شہرِ الفت میں ہیں

بول، تیرے بِنا کچھ مزہ بھی نہیں

میری فطرت ہے غمگیں، میں غمگیں ہوں

پھر تو اِس میں میری کچھ خطا بھی نہیں

زندگی گر نشاط، ہے خُمار و سرور

معطر کیا ابھی تو نشہ بھی نہیں

Leave a Reply

Ready to get started?

Are you ready
Get in touch or create an account.

Get Started