kalam e muattar
Urdu,  شاعری

شورشِ دل

شورشِ دل کے غم میں ذندہ ہوں

یہی میری اساس ہے جانم

تمہیں اس کا احساس ہے جانم

مجھے بھی کچھ تو پیاس ہے جانم

پلا دے جامِ لب، شعور کا جام

یہ انتظار ہے پل پل کا عذاب

میں توڑ سکتا نہیں تازہ گلاب

آتش ِغم ہے، پیار ہے میرا

ابھی صنم بھی یار ہے میرا

قدم قدم پہ دار ہے میرا

میری خطا بتا، جفا کر تو

تیرا عاشق ہوں، کچھ حیا کر تو

شمع!کیا زندگی ہماری ہے؟

زندگی سے بھی موت پیاری ہے

آگ سینے میں ہے، سر پہ ہے، نگاہوں میں ہے

جان! اب تیری محبت میری باہوں میں ہے

سراپا سوز ہوں میں بھی، تو بھی شمعِ من

ذرا تفصیل سے بتا کیا ہے قصہِ من؟

علی معطر

Leave a Reply