اُردو,  شاعری

شورشِ دل: یادیں

آہ! یہ یادیں

کتنی ظالم بھی ہوتی ہیں

بس تھوڑی یاد رہتی ہیں

اور اکثر بھول جاتی ہیں

اِنہیں اسیر کرنا ہے

کچھ تو تحریر کرنا ہے

!کاغذ کے چہرے پر جانم

آہ! وہ کچھ اَن کہے لمحے

وہ لمحے جن کی آمد پر

ہم خود کو دیوتا سمجھیں

وہ جن میں ہم زمانے کے

سکندر بن سے جاتے ہیں

وہ جن میں پیار کے تلخ و شریں رنگ

چار سُو بکھرتے ہیں

وہ جن میں ہم زمانے کے

سبھی غموں کو بھول جاتے ہیں

آہ! یہ یادیں بہت تکلیف دیتی ہیں

صاحبِ طرز ادیب، شاعر اور نفسیات دان علی معطر الفاظ سے کھیلنے اور اُنہیں جھیلنے کے عادی ہیں۔ عام زندگی میں جس کی خاموشی ورطہ حیرت میں ڈالتی ہے۔ جب لکھنے پہ آتے ہیں تو الفاظ ہاتھ باندھے قطار اندر قطار نظریات و افکار کے انبار لگا دیتے ہیں۔ نظم و نثر، اُردو، انگریزی اور پشتو زُبان میں بیک وقت لکھنے والے اس بمثال بیتاب روح کے حامل لکھاری سے ہمیں عظیم تخلیقات کی توقع ہے۔ اور اُس نے ہمیں کبھی بھی مایوس نہیں کیا اور اُمید ہے آگے بھی نہیں کریں گے۔ خوابوں میں اور خوابوں کے لیے جینے والے اس ادیب کے الفاظ میں حقیقت کی کاٹ اور سماج کی پرکھ آپ کو الفاظ کے تقدس کی یاد دلانے کے لیئے کافی ہیں۔ ملاحظہ ہو کہ وہ مزید کیا لکھتے ہیں۔

Leave a Reply