kalam e muattar
Urdu,  شاعری

شورشِ دل: یادیں

آہ! یہ یادیں

کتنی ظالم بھی ہوتی ہیں

بس تھوڑی یاد رہتی ہیں

اور اکثر بھول جاتی ہیں

اِنہیں اسیر کرنا ہے

کچھ تو تحریر کرنا ہے

!کاغذ کے چہرے پر جانم

آہ! وہ کچھ اَن کہے لمحے

وہ لمحے جن کی آمد پر

ہم خود کو دیوتا سمجھیں

وہ جن میں ہم زمانے کے

سکندر بن سے جاتے ہیں

وہ جن میں پیار کے تلخ و شریں رنگ

چار سُو بکھرتے ہیں

وہ جن میں ہم زمانے کے

سبھی غموں کو بھول جاتے ہیں

آہ! یہ یادیں بہت تکلیف دیتی ہیں

Leave a Reply