Urdu,  ادب,  ارتکاز,  مذہب,  معاشرہ,  نفسیات

شکر ہے مالک کا کہ اسنے کم ظرفوں کا احسان مند نہیں کیا

اس احسان پہ جتنا بھی شکر ادا کروں کم ہے کہ اس نے زندگی بھر اک درویشی سے نوازا ہے مالک نے کبھی کسی کم ظرف کا احسان مند نہ بنایا۔ ایک دعا جو کسی عارف کی زبانی سنی تھی مگر اس کی حرارت اب بھی اپنی زندگی میں محسوس کرتا ہوں۔ دعا کچھ یوں ہے۔

مالک! اپنے مخلوق سے بے نیاز کر دے۔

جب کسی کم ظرف سے پالا پڑتا ہے تو بےاختیار دل سے یہی دعا نکلتی ہے۔ آج شبِ جمعہ ہے ہمارے ہاں اس رات کو دعائے خضرؑ جو کہ دعائے کمیل کے نام سے منسوب ہے کی تلاوت کی جاتی ہے۔

میری محبوب ترین دعاؤں میں سے سرِ فہرست یہی دعا ہے جو امامِ علی ابنِ ابی طالب نے اپنے صحابی کمیل ابنِ ذیاد کو تعلیم فرمائی۔ اس دعا میں خالق سے جس انداز میں دعا مانگی گئی ہے وہ اپنی مثال آپ ہے۔ یہ مکمل دعا اور اس کی نفسیاتی تشریح میں نے اپنی زیرِ طبع کتاب ’’میری محبوب دعائیں‘‘ میں کی ہے تاہم کچھ روح پرور جملے پیشِ خدمت ہیں۔

اس دعا کو مندرجہ ذیل حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے

پہلا حصہ رحمت کے واسطے سے سوال سے شروع ہوتا ہے اور اس کی ازلیت اور ابدیت کے اعلان پہ ختم ہوتا ہے۔

دوسرا حصہ اپنے گناہوں، لغزشوں اور خطاؤں کے اعترافات اور ان کے نتیجے میں نازل ہونے والی آفات اور بلیات سے نجات کی التجا پہ ختم ہوتا ہے۔

تیسرا حصہ اس سے تقرب کی خواہش سے لے کر اپنی عاجزی اور اسکی رضا پہ قناعت پہ ختم ہوجاتا ہے۔

چوتھا حصہ اپنی حالت اوراسکی عظمت اور رفعت کے تذکرے سے شروع ہوکر اسکی حاکمیت کے دائرہ کار پر ختم ہوتا ہے۔ دعا کا اپنا جملہ ہے ولایمکن الفرار من حکومتک اور تیری حُکومت سے فرار ممکن نہیں۔

پانچواں حصہ اپنے عیبوں کی پردہ پوشی اور اپنے نفس کے ساتھ ذیادتی کے اعتراف سے شروع ہوکر اس کے وسعتِ رحمت کے صدقے عُذر خواہی کی درخواست پہ ختم ہوتی ہے۔

چھٹا حصہ اقبالِ جرم و جنایت کے ساتھ اپنی جسمانی ضُعف اور اس کے ازلی کرم سے شروع ہو کر اس کے اور بندے کے رشتے کے جاودانی اور آفاقی انداز پر اختتام پذیر ہوا ہے۔

ساتویں حصے میں جس حسین اندازمیں عبد کا اپنے معبود سے راز و نیاز سے ابتداء ہوئی ہے اس دعا کے دل کی حیثیت رکھتا ہے۔ ایک جملہ معرفت امیز یوں ہے۔

اے مولا! میں یہ کیسے مان لوں کہ تو ان چہروں پر آتشِ جہنم مسلط کرے گا جو تیری عظمت کے سامنے سجدہ ریز رہے ہیں۔

اور اختتام اس کے کرم کے بارے میں اچھے گمان پر ہوا ہے۔

آٹھواں حصہ رب سے اس دنیا کے مصائب کو برداشت سے باہر ہونے اور آخرت کے عذاب کی شدت سے پناہ کی درخواست سے شروع کر کے اپنی بے بسی اور کمزوری کے ذکر پہ ختم کیا ہے۔

نواں حصہ مولا سے اس بات پر التجا سے شروع ہوا ہے کہ

میں کس کس بات پر نالہ و فریاد کروں اس پہ کہ تو نے مجھے اپنے دشمنوں کے ساتھ رکھا یا اس پہ کہ تیرے محبوب بندوں سے الگ کیا گیا ہوں؟

اور جہنم میں بھی اسے پکارتے رہنے پر ختم ہوا ہے۔

دسواں حصہ جہنم میں عبد کا معبود سے مکالمے پر مشتمل ہے۔

گیارہواں حصہ مالک کو اس کے قدرت، حکمت اور غلبت کا واسطہ دے کر اسی رات اور اسی لمحے اپنے تمام گناہوں کی بخشش کے سوال پر اختتام پذیر ہوا ہے۔

بارہواں حصہ اس کے حق کے سوال سے شروع ہوکر اپنی دعاؤں کی قبولیت پر احسان مندی پر ختم ہوتا ہے۔

تیرہواں حصہ اس کے عزت کے صدقے دعا کی قبولیت سے شروع ہوکر اسے سب سے جلد راضی ہونے پر ختم ہوتا ہے۔

چودہواں حصہ اپنے خالی داماں ہونے کے اعتراف کے ساتھ دعا کے اسلحے سے لیس ہونے سے شروع ہوا ہے اور محمدﷺ اور اسکی آل پر درود و سلام پر ختم کرتے ہوئے اس دعا کا مغز ایک جملہ میں سمیٹا گیا ہے۔

میرے ساتھ وہ سلوک کر جو تیرے شایانِ شان ہے نہ وہ کہ جس کا میں اہل ہوں۔۔۔

اور اس نورانی جملے کے بعد درود و سلام سے اس دعا کا اختتام ہوتا ہے۔

خوش قسمت ہیں وہ لوگ جو آج اس دعا کے نور سے اپنے قلب و جگر گرما رہے ہونگے اور آنسوؤں سے تر آنکھوں سے مالک سے دنیا جہاں کے انسانوں کی صحت و سلامتی کی التجا کر رہے ہونگے۔ معبود ہم سب کو اپنی عبادت اور دعا میں لذت اور اطمنانِ قلب نصیب کرے آمین۔

Leave a Reply