Blog Literature Urdu

پاسِ اظہار ہے پر سوزِ تمنا نہ رہا


پیامِ مشرق

پاسِ اظہار ہے پر سوزِ تمنا نہ رہا

جو قابلِ دید تھا موسیٰ نہ رہا

کہا یہ کس نے تجھ سے اے واعظ!

گیسوئے یار میں اُلجھا جو، مسلماں نہ رہا

دین کیا کارِ محبت کے سوا ہے کچھ اور؟

زاہدِ تنگ نظر، تاجر ہے، بے پرواہ نہ رہا

آئینہ ٹوٹ کے بکھرے تو خرابہ ہے دل!

اسکا اک جلوہ گر یاں ہے، تو وہ ٹوٹا نہ رہا

دلِ تباہ کے تجلی کو ڈھونڈتا ہوں میں

ساقی کے جام میں یارب!ٓ کوئی نشہ نہ رہا

نگاہِ ظاہر نے توبہ کی، بصیرت کے لیے

دل کی نگاہوں میں تو وہ اب آشنا نہ رہا

دیوانہ پہلے تھا، پاگل بنا دیا اب تو

پہلے اپنا تو تھا پر اب تو میں زندہ نہ رہا

جب سے یہ لاش اُٹھائی اپنے کندھوں پہ ہے
شوقِ دید اب بھی ہے پر اب تو میں زندہ نہ رہا
شکوہ تھا دل میں سو محفل میں کہ نہ پایا میں
جب آئے سامنے تم یارائے گریہ نہ رہا
رات رونے کے لیے وقف تھی تنہائی میں
تم مسکرا جو دیئے پھر کوئی گریہ نہ رہا
بس کئی بار یہ بھی چاہا بغاوت کردوں
جہاں تم آئے وہاں درد کا شائبہ نہ رہا
تم معطر کے تڑپنے کو سمجھتے ہو ثواب
نظر انداز کیا مجھکو یہ گناہ نہ رہا

Leave a Reply

Ready to get started?

Are you ready
Get in touch or create an account.

Get Started