Blog Literature Urdu

صبحِ اول

صبحِ اول

اس حسنِ دلنشین کا جلوہ بھی یاد ہے

اس وعدہ الست کا تقاضہ بھی یاد ہے

آنکھیں بھی یاد ہیں اسکا چہرہ بھی یاد ہے

روٹھے ہوئے جہان کا نقشہ بھی یاد ہے

مجھکو وہ میرا اپنا مہربان بھی یاد ہے

وہ دہر سے الگ میرا جاناں بھی یاد ہے

ہونٹوں پہ رقصِ جام کا نخرہ بھی یاد ہے

اتنا ہوا کہ پھر سے دیوانہ بھی یاد ہے

خوابیدہ من! میں صورتِ منصور کہہ چکا

یہ کیا ہے من و تو تیرا نعرہ بھی یاد ہے

گر شاد ہے، غمگیں ہے، جہاں میرا تو تجھ کو

وجودِ بے نشاں کا کچھ درماں بھی یاد ہے

اسی آگ میں میں جلتا ہوں میں ہر روز ازل سے

جس میں تیرا جلوہ تھا وہ جلوہ بھی یاد ہے

یہ کیا سراپا سوز مجھے کر دیا ہے اب

اِس بے ادب کا عشقِ بے پروا بھی یاد ہے؟

کیوں تلخئِ جہان کا خوگر کیا مجھے

جنت کا مجھ سے رشتہ و پیماں بھی یاد ہے؟

بھیجا گیا تھا مجھکو کہ اپنی تلاش ہو

اے حسنِ بے پروا، تجھے اپنا بھی یاد ہے؟

تُو بے نظیر ہے، میں معرفت کا ہوں ہما

یہ کیا، دلِ غریب و ناتواں بھی یاد ہے؟

ہر روز تو نقابِ تقدس میں ہے محجوب

آدم کا خون ہوں، میرا طغیاں بھی یاد ہے؟

تخلیق میری، مجھ سے گر پوچھتے تو میں کہتا

اے بے نیاز ذات! میرا دعویٰ بھی یاد ہے؟

ہمراز کیوں کردیا ہر رازدان سے

آخر میرے وجود کا قصہ بھی یاد ہے؟

۱۳ اپریل ۲۰۱۶

ابیسینیا لائن۔ کراچی

Last Updated on April 15, 2021 by ANish Staff

Leave a Reply