Blog Literature Urdu

صبحِ ازل

صبحِ ازل

صبحِ ازل یہ مجھ سے کہا جبریل نے(اقبال

نہ ہوسکے گی تجھ سے، اس عشق کی نگہبانی

جنوں انگیز ہے تو، کیا ہے تیری کہانی

ہوا لبریز پیمانۂِ مجنوں، کہا اے بمثل پروانۂِ حق

سنو میں کیا ہوں، ہے کیا میری کہانی

عبث ہے مجھ سے کوئی عملِ زندگی مانگے

میں ہوں شرر، فقط وجود میرا انسانی

نہیں گر ساغر و مینا کی کوئی محفل تو

میں شرابوں میں ہوں ڈوبا، گرچے ہوں زندانی

نہ باخبر ہوں میرا جامِ زندگی کیا ہے؟

یہ سلسلہ ہے غموں کا مگر ہے طولانی

نبض شناس زمانے کا ہوں مگر خاموش

یہ میرے نغمے بے اثر کیوں، ہوں گر زمانی

میرا خدا مجھے عالم سے گر آذاد کرے

گر تنگ ہوں میں زمینی رہوں یا زمانی

کسی اور عالم ہستی میں لے کے جائے مجھے

یہیں تو مارے گی مجھکو یہاں کی سلطانی

ہے سازشوں سے جہانِ وجود کی ہستی

چلیں گے ہم بھی سازشوں سے جی لیں جوانی

خُدا اگر میری یہ آرزو کرے پوری

تو زندگی رہے گی میری ساری رحمانی

میں، خُدا اور عشقِ بے نیاز میرا

اگر یکجا ہوں تو پھر سے ہوگی جہاں رانی

مجھے مفلس کی قبا کو کرنا ہے شاہوں کا تاج

کہ سمجھاؤں کسی کو، کیا یے یہ مسلمانی

Last Updated on April 15, 2021 by ANish Staff

Leave a Reply