Blog Literature Urdu

سُنا ہے

سُنا ہے۔۔۔

سنا ہے درد سے رشتہ میرا پرانا ہے

سراب ہے جو نگاہوں کے جال جیسا ہے

سنا ہے نیند کو مجھ سے بڑی شکایت ہے

میں اس کی باہوں میں سویا نہیں ہوں برسوں سے

سنا ہے زندگی کا مجھ سے یہی تقاضہ ہے

میں پھول میں رہوں ہر وقت بس خوشبو کی طرح

سنا ہے آنسوؤں سے درد بہہ نکلتے ہیں

سنا ہے شام وسحر رقصِ جام ہوتا ہے

سنا ہے اس کی ہر عادت بری ہے ہم جیسی

سنا ہے رات کو گیسو بکھرا کے روتے ہیں

سنا ہے مانندِ شمسُ و قمر شباہت ہے

سنا ہے اس کی ہر اک بات ہی نرالی ہے

سنا ہے عادتیں مجھ سی، ادائیں محفل کی

سنا ہے بلبلِ محفل سے ہیں وابسطہ وہ

سنا ہے درد کا قائم کوئی ٹھکانہ نہیں

کہا کہ شام کو ٹھہرو، کوئی بہانہ نہیں

سنا ہے انکو تکلف ہے ہم سے ملنے کا

سنا ہے رات کو آنسو چھپا کے روتے ہیں

کہیں پہ خوابوں کی بکھری ہوئی ہیں تعبیریں

کہیں تو لفظوں کے نشتر چبھو کے دیکھتے ہیں

کہیں پہ عدل کی ساری حدیں نبھائیں گے

کہیں پہ ظلم کی ہر ایک ادا دکھائیں گے

کہیں پہ درد کو درمان دیتے دیکھا ہے؟

کہیں پہ زخموں کو مرہم لگاتے ہیں کیسے؟

عبث ہے خوابوں کا سایہ بنو سدا کے لیے

سنا ہے موت بھی رقصاں ہے میرے جیون میں

سنا ہے آگ کا بھی اک حصہ ہے سینے میں

سنا ہے قہقہوں سے زندگی بدلتی ہے

سنا ہے رؤو تو آنکھوں میں زخم بنتے ہیں

سنا ہے دوستی میں دشمنی بھی پلتی ہے

سنا ہے سانپ بھی چھپتے ہیں آستینوں میں

سنا ہے لذتِ علم و ادب ہی جنت ہے

سنا ہے جرمِ بغاوت ہی خالقیت ہے

سنا ہے موت ہے آغاز زندگانی کی

سنا ہے زندگی ہی موت کی ضمانت ہے

سنا ہے سانس سے رشتہ ہے اس کا تبھی تو

ہر اک پل مجھے لگتا ہے اس کے پاس ہوں میں

سنا ہے دائمی رشتے فریبی ہوتے ہیں

سنا ہے عارضی قصے طویل ہوتے ہیں

سنا ہے مجھ سے اسے کوئی شکایت ہی نہیں

سنا ہے اسکی ہر اک بد دعا میں شامل ہوں

سنا ہے انکو سنانا ہی آتا ہے شاید

سنا ہے لفظ میرے وہ ادھار مانگتے ہیں

Leave a Reply

Ready to get started?

Are you ready
Get in touch or create an account.

Get Started