Literature,  Urdu

تنہائی

یکطرفہ محبت کا

پہلے سے ہی ڈسا ہوں

!اے دوستی کی ناگن

اِس بار نا ڈسو تم

کچھ لوگ مِل دہے ہیں

اَنجان صورتوں میں

جزبوں سے کھیلتے ہیں

بےجان صورتوں میں

میں سادگی کا پیکر

دھوکے ہی کھا رہا ہوں

اَنجان بن کر کب سے

تنہا ہی جی رہا ہوں

جب غم ستائیں مجھ کو

تبھی تو پی رہا ہوں

یہ کیا میری خطا ہے

مجھکو بھی کیا پتا ہے

رُوزن سے دیکھتا ہوں

جب فاصلے چمن کے

تب خود سے کہ رہا ہوں

یہ وقت ہے یا شاید

موجوں میں بہہ رہا ہوں

!تنہائیوں میں یارو

بس یونہی رہ رہا ہوں

اِتنا ہی کہہ رہا ہوں

Leave a Reply