Blog Literature Urdu

تلاشتی ہے کہانی مجھے

تلاشتی ہے کہانی مجھے

دل کی دہلیز پر

ہے وہی دل نشیں

اب بھی روتی ہوئی

مجھ سے میری زمیں

اَن کہی ایک کہانی سناتی رہی

گنگناتی رہی، اشک بہاتی رہی

زندگی پھر یونہی مسکراتی رہی

الجھنوں سے کہو، مہوشوں کے لیے

ایک فسوں خیز موسمِ گل کی طرح

ایک ردائے حیا، دل کے غم ہیں سوا

ایک نوائے بہاراں سنائی پڑی

دل نے خود سے کہا

خود کلامی ہوئی

زندگی موت سے پھر سے کہنے لگی

اپنی آغوش وا کر، سما لے مجھے

ساری ہستی سے چھیں کر اپنا لے مجھے

رقص کرتے رہو

لرزشِ ماہ و سال نے بتایا مجھے

رقص نے زندگی پر لٹایا بہت

ہر کہانی نے مجھ کو تلاشا بہت

جانے زندہ وفاؤں کو کیا چاہیے

بستی کے ان خداؤں کو کیا چاہیے

یہ قلم ہے محافظ تو رہزن بھی یہ

اَن کہی، اَن سنی گر حکایت کہوں

جانے کس کس کو رب کی بشارت کہوں

جب ازل کے بکھیڑوں میں کچھ بھی نہیں

انتہائے جہاں جب مکمل نہیں

ہر کہانی شروع ہے ختم جب نہیں

جب تلاشے مجھے، نیند غارت کرے

جب قلم رقص کرتا رہے

جب سیاہی لہو رنگ بننے لگے

تلاش کرتی ہے تب کہانی مجھے۔۔۔

Last Updated on April 15, 2021 by ANish Staff

Leave a Reply