Urdu,  ادب,  شاعری

طلسمی سر زمیں ہے، جانے کیا ہو

طلسمی سر زمیں ہے، جانے کیا ہو
یہاں کچھ بھی نہیں ہے،جانے کیا ہو

عجب ہی کچھ ہے اس بستی کا انداز
کچھ اندازہ نہیں ہے، جانے کیا ہو

کبھی اک شور اٹھتا ہے پر اب کے
خموشی نکتہ چیں ہے، جانے کیا ہو

گراں ہے اب یہاں جنس گماں بھی
وہ افلاس یقیں ہے، جانے کیا ہو

جدا ہیں اور نہیں تاب جدائی
ابھی تک دل وہیں ہے، جانے کیا ہو

ٹھہر ، اشک سر مثرگاں جاناں!
یہ میری سر زمیں ہے جانے کیا ہو

یہ ہنگام تلاطم تھا مگر دل
تلاطم تہ نشیں ہے، جانے کیا ہو

ہیں کچھ قصے یہاں اس کے سوا بھی
اسے آنا یہیں ہے، جانے کیا ہو

کسی محرموں میں دل ہمارا
عبارت آفریں ہے ، جانے کیا ہو

چلے تو آئے ہو تم پر مری جاں
وہ در اب بے جبیں ہے، جانے کیا ہو

یونہی دل صبح سے اندوہگیں ہے
بہت اندوہگیں ہے ،جانے کیا ہو

جون ایلیا

Leave a Reply