Literature,  Urdu

تماشائی

بِن تیرے، دل میں اک تنہائی ہے

میں سمجھتا ہوں، یہ جُدائی ہے

میں چلا پھر نہیں آؤنگا سامنے تیرے

میں گرچے آپ دیوانہ ہوں یہ رسوائی ہے

ہمہ تن گوش ہوں، فرہاد و قیس کی آہیں ہیں

زندگی میری اُن آہوں کی تمنائی ہے

چلو پھر سے ہم کریں عہدِ وفا کی سازش

تیری نگاہ سے میرے دل میں روشنائی ہے

میں گرچے شاہ ہوں، دنیا میں، دنیا والوں میں

تیرے دربار میں عزت، میری گدائی ہے

بے رخی تیری مار دے گی جیتے جی مجھکو

تیری عادت ہے سنگدلی، میری شیدائی ہے

تم تو شمع ہو پرونہ بن کے جلی ہی نہیں

ہوں پروانہ میں، سو قسمت میں ہی تنہائی ہے

پھر اس پہ طرفہ تماشا کہ پاس بھی ہو تم

نہیں ہو دور تو، پھر کیسی یہ جدائی ہے

رسمِ دنیا سے ڈرنا چھوڑ کچھ عیاں ہو جا

ساری دنیا تو صرف میری تماشائی ہے

Leave a Reply