kalam e muattar
Urdu,  ادب,  سیاست,  شاعری

تیری زلفوں کی چھاوں سے باہر

تیری زلفوں کی چھاوں سے باہر

اک تیرے پیار کا حصار پسند

تیرے آنکھوں کے جیسے جال میں بند

میں تیرے ہونٹوں کے آزار میں بند

تم بھی جانے کسی جہان میں بند

میں بھی لفظوں کے کاروبار میں بند

عیش کوشی، ایذائے دہر میں بند

تیری باتوں کے حسیں قہر میں بند

زندگی میری ہجرِ زہر میں بند

کس لیے روز روز جیتا ہوں

کس لیے روز روز مرتاہوں

خون اپنے جگر کا پیتا ہوں

جانے کیسے سب زخم سیتاہوں

اپنی زبان سی ہی لی میں نے

اب تیرے جبر کا معلوم ہو کیسے سب کو

لو اب خنجر اور چیر لو سینہ

دل دھڑکتا ہے یہ خاموش کرو

راج کرنا پھر سب انسانوں پہ

تم خداوندِ دہر بن جاؤ

Leave a Reply