kashmir freedom
Urdu,  ادب,  انسانی حقوق,  ذرائع ابلاغ,  رائے,  سیاست,  معاشرہ

کشمیر کی آذادی کا واحد حل

کشمیر کی تاریخِ مقاومت اتنی طویل نہیں کہ اس کے لیے تاریخ کے قبرستان سے گڑھے مردے نکالے جائیں۔

کشمیریوں یا دنیا بھر کے حُریت پسندوں کو جو توقعات تھیں دنیا بھر کی نام نہاد طاقتوں اور تنظیموں سے وہ ان جاری حالات کی وجہ سے ختم ہوچکے ہیں۔


توقعات جو تھیں پاکستانی اور ہندوستانی حکومتوں سے وہ بھی بغیر کسی عملی اقدامات کے زمیں بھوس ہو چکے ہیں۔


بین الاقوامی سیاست کے بدلتے ہوئے پھینترے مظلومانِ زمان کے لیے ہمیشہ سے شکنجے کسے ہوئے ہیں۔ کشمیریوں سے اپنوں کی خیانت اسے اس دن تک لے آئی ہیں۔ مسلحہ، غیر مسلحہ، سیاسی اور ثقافتی جنگ میں وقتی پسپائی کو اپنی غلامی کی تقدیر پر اکتفا نہ کریں کوششِ مسلسل ہی رنگ لاتی ہے۔


اس کا راہِ حل فقط جہاد ہے مگر یہ جہاد نام نہاد جہادی تنظیموں کے طرز کا جہاد نہیں بلکہ عوامی جہاد یعنی جدوجہد ہے۔ جو کہ زندگی کے ہر شعبے پر مشتمل ہو۔ اب تک بغاوتیں ہی ہوتی رہی ہیں اب انقلاب آنا چاہیئے۔


مسئلہ کشمیر پر غور و فکر کرنے کے بعد میں اس نتیجے پہ پہنچا ہوں کہ مسئلہ کشمیر کا حل کشمیری عوام کے پرامن سماجی، سیاسی، ثقافتی، اور قانونی مدافعت اور مزاحمت میں مضمر ہے۔


کشمیریوں کو چاہیئے کہ وہ تمام دنیا کے اقوام اور بین الاقوامی تنظیموں سے منہ موڑ کر اپنے زورِ بازو ، اللہ کی ذات پر توکل اور اپنے اندرونی اتحاد کے ذریعے ظلم اور ظالم نظام سے ناطہ توڑ کر اپنی آذاد اور خود مختارانہ تحریکِ مقاومت کی داغ بیل ڈال دیں جو نہ تو مشرق سے وابسطہ ہو نہ مغرب سے۔


کیونکہ ستر سالہ جبر و تشدد، بے حیثیتی، تذلیل، اور ریاستی دہشت گردی، انتہا پسندی، اور لوٹ مار کو مدنظر رکھتے ہوئے واضح طور سے کہا جا سکتا ہے کہ کشمیر کے مسئلے کو دونوں اطراف میں سے کسی نے بھی سنجیدگی سے نہیں لیا۔


دونوں اطراف سے فقط احتجاج، زبانی جمع خرچ اور ایک دوسرے کے متعلق نازیبا زبان کا استعمال ہی ہوا۔ اور اس مسئلے پر ٹھوس اقدامات نہیں کئے گئے۔


اگر کشمیری عوام بین الاقوامی تنظیموں کے انتظار میں رہیں گے کہ وہ آکر ان کی آذادی انہیں پلیٹ میں رکھ کر پیش کر دیں تو یقین مانیئے وہ اگر سات سو سال بھی انتظار کریں تو انتظار ہی کرتے رہ جائیں گے۔
انہیں یہ یاد رکھنا چاہیئے کہ آذادی بھیک میں نہیں ملتی اسے کمانا پڑتا ہے۔ کیونکہ کشمیر کے ہی اک سپوت

اقبال نے کہا تھا

؎
بے بازوئے حیدؑر درِ خیبر نہیں گرتا

اور اسی سرزمیں کے ایک اور سپوت سید روح اللہ خمینی نے کہا تھا کہ یہ انبیاء کی تعلیمات نہیں ہو سکتیں کہ ظالم ایک طمانچہ مارے تو دوسرا گال آگے کر دو۔ اور میرے خیال میں یہ حقیقت کے نزدیک تر ہے کہ ظالم اک طمانچہ مارے تو اس کا وہی ہاتھ توڑ کر اس کے دوسرے ہاتھ میں دے دیا جائے تاکہ وہ دوبارہ کسی مظلوم پہ نہ اُٹھ سکے۔

قوموں کے عروج و زوال کو مد نظر رکھتے ہوئے میں یہی کہونگا۔کہ کشمیری عوام کو اب تمام توقعات اپنے جوانوں سے وابسطہ کر لینے چاہیئں اور مشرق و مغرب کے استعماری طاقتوں سے منہ موڑ کر ایک خُدا پر توکل کرتے ہوئے کشمیر کو ظُلم اور ظالموں کا قبرستان بنا دیں۔ اگر اور کچھ نہیں تو اسے دوسرا ویت نام بنا دیں۔

Leave a Reply