Blog Literature Urdu

تُشنگئِ ازل

تُشنگئِ ازل

میں پیاسا ہوں اے جانِ من

کچھ پیاس بُجھاؤ میری تم

نامیدی چھائی ہے چاروں طرف

کچھ آس بڑھاؤ میری تُم

سب محفلوں سے تنگ ہوں میں

اِن محفلوں میں پیاس بجھتی ہی نہیں

وہ محفل سجاؤ میری جان

جس میں ساقی تم بن جاو

ہے تیری قسم اے جانِ من

میری پیاس ابھی بجھتی ہی نہیں

کہتے ہیں لبوں کے ساغر میں

ہونٹوں کی شراب ملتی ہو گی

جو درد ہے میرے سینے میں

اُس درد میں ہی پینی ہوگی

ذرا مست نظروں سے پِلاؤ تو

میری پیاس ذرا اور بڑھ جائے

Leave a Reply

Ready to get started?

Are you ready
Get in touch or create an account.

Get Started