Literature,  Urdu

تُو اے اقبال

اُصولِ درد زمانے میں گِنوائے تو نے

کاش وہ اصلِ محبت پھر ثمردار بنے

میری نوا بھی تیری ہمنوائی میں اقبال

تڑپ رہی ہے کوئی اس نوا کا یار بنے

تم مر گئے، کہا کس نے اے میرے دل کے امیں

پہلے شرر تھے ابھی ساغرِ شرار بنے

یہ تکلف یہ حکیمانِ ہوس کی تدبیر

دل میرا کہتا ہے، تم صاحبِ کردار بنے

تیری صدا میں بغاوت، تو خود بھی تھا باغی

بغاوتوں کے امیں! ظلم سے بیزار بنے

یہ شیخ و مدرسہ، یہ پیر و مرشدانِ ہوس

تم ان کے زور میں بھی مردِ کردار بنے

تیری عطا ہے اے اقبال! ورنہ میرا کیا

کچھ حیثیت ہے کہ یہ نوشتہِ دیوار بنے

عطا کرو میرے جواں کو تم خودی کی شراب

کہ بغیر نام و نمود بیخود و خوددار بنے

اس معطر کا یہ میثاق تجھ سے ہے اقبال

کہ کچھ بنے نہ بنے ظلم سے بیزار بنے

یومِ وفاتِ اقبال ۲۰۰۹

Leave a Reply