Literature,  اُردو

تُو اے اقبال

اُصولِ درد زمانے میں گِنوائے تو نے

کاش وہ اصلِ محبت پھر ثمردار بنے

میری نوا بھی تیری ہمنوائی میں اقبال

تڑپ رہی ہے کوئی اس نوا کا یار بنے

تم مر گئے، کہا کس نے اے میرے دل کے امیں

پہلے شرر تھے ابھی ساغرِ شرار بنے

یہ تکلف یہ حکیمانِ ہوس کی تدبیر

دل میرا کہتا ہے، تم صاحبِ کردار بنے

تیری صدا میں بغاوت، تو خود بھی تھا باغی

بغاوتوں کے امیں! ظلم سے بیزار بنے

یہ شیخ و مدرسہ، یہ پیر و مرشدانِ ہوس

تم ان کے زور میں بھی مردِ کردار بنے

تیری عطا ہے اے اقبال! ورنہ میرا کیا

کچھ حیثیت ہے کہ یہ نوشتہِ دیوار بنے

عطا کرو میرے جواں کو تم خودی کی شراب

کہ بغیر نام و نمود بیخود و خوددار بنے

اس معطر کا یہ میثاق تجھ سے ہے اقبال

کہ کچھ بنے نہ بنے ظلم سے بیزار بنے

یومِ وفاتِ اقبال ۲۰۰۹

صاحبِ طرز ادیب، شاعر اور نفسیات دان علی معطر الفاظ سے کھیلنے اور اُنہیں جھیلنے کے عادی ہیں۔ عام زندگی میں جس کی خاموشی ورطہ حیرت میں ڈالتی ہے۔ جب لکھنے پہ آتے ہیں تو الفاظ ہاتھ باندھے قطار اندر قطار نظریات و افکار کے انبار لگا دیتے ہیں۔ نظم و نثر، اُردو، انگریزی اور پشتو زُبان میں بیک وقت لکھنے والے اس بمثال بیتاب روح کے حامل لکھاری سے ہمیں عظیم تخلیقات کی توقع ہے۔ اور اُس نے ہمیں کبھی بھی مایوس نہیں کیا اور اُمید ہے آگے بھی نہیں کریں گے۔ خوابوں میں اور خوابوں کے لیے جینے والے اس ادیب کے الفاظ میں حقیقت کی کاٹ اور سماج کی پرکھ آپ کو الفاظ کے تقدس کی یاد دلانے کے لیئے کافی ہیں۔ ملاحظہ ہو کہ وہ مزید کیا لکھتے ہیں۔

Leave a Reply