Blog Literature Urdu

طوفاں کا نقیب

طوفاں کا نقیب

یہ ہے شہر تھوڑا برا برا

یہاں فاصلوں سے ملا کرو

بے حسوں کا شہر ہے خاموشاں

یہاں حق بھی تو نہ کہا کرو

ظلم ظلم ہے اے مردہ ضمیر

میرے خون پر نہ پلا کرو

یہ باغی ہیں سارے جوان اب

تم بھی رات کو اب جگا کرو

اب صدائے باغی ہے منتشر

اسے اور بھی تم اونچا کرو

میکدہ بھی تو ہے ویران اب

خانقاہوں میں نہ چھپا کرو

پھر سے شبؔیر بن کے چلو سہی

پھر سے ینصرنیٰ کی صدا کرو

اس چمن کے لالہ و زار کو

مزید دکھ میں نہ مبتلا کرو

محفلِ غلاماں اگر ہے یہ

یاں بلاؔل پھر سے پیدا کرو

تجھ ہی پہ یہ میکدہ بند ہوا

خود ساقی بنو پھر پیا کرو

اپنا جام پھر نہیں توڑنا

کسی اور کو بھی دیا کرو

غمدیدہ چمن کا باسی ہوں میں

میری بات بھی کچھ سنا کرو

میں ہوں جانتا یہ آئینِ جبر

پھر سے سولی پہ چڑھایا کرو

تیرے پاس گر ہے ستم ستم

میرے پاس پھر ہے قلم قلم

تم آذؔر کا دل میں خلیل کا

بت تراش تُو، بت شکن ہوں میں

تیری ضد ہے کہ تو عرب سے ہے

میرا ورد ہے کہ عجم عجم

تو بھلا چکا کہ تو کون ہے

تیرے ہر طرف ہے صنم صنم

گرچہ ہوں نہیں بت تراش میں

پھر بھی ہے الگ ہر قدم قدم

یہ آئینِ ظلم و ستم ہے جو

میں کروں اسے کالعدم عدم

ڈر عوام کے انتقام سے

اس ساغرِ لالہ فام سے

اس شاعرِ گمنام سے

اس ساگر گلفام سے

اس آتشِ بے دام سے

اس گلشنِ بدنام سے

یہ طوفانِ اشک ہے نقیب اب

ہر ایوان میں ہے صلیب اب

ابنِ مریموں کی تاک میں

کچھ بچا تو ہے اس کی راکھ میں

دلِ بے نوا کی صدا ہے یہ

غمِ دوستاں کا گلہ نہیں

جو ملا بھی تو کچھ ملا نہیں

یہ گلہ تو کوئی گلہ نہیں

دلِ زار کو یہ سمجھ کہاں

غمِ یار میں اب الجھ کہاں

دلِ بے زباں کی گواہ ہے یہ

یہ آواز ہے طوفاں کی نقیب

۴۔۹۔۱۶

Last Updated on April 15, 2021 by ANish Staff

Leave a Reply