kalam e muattar
Urdu,  ادب,  شاعری

تم نے یہ سچ کہا ہے کہ نفرت تجھے بھی ہے

تم نے یہ سچ کہا ہے کہ نفرت تجھے بھی یے

ایک مجھ سے کیا جہان سے قربت تجھے بھی ہے

تم اس طرح سے پیار کو رسوا کرو گی کیا؟

اتنا ہے مجھ سے پیار، عداوت تجھے بھی ہے

دونوں کا فیصلہ تھا کہ اب کہ جدا نہ ہوں

وعدہ بدلنا، خود سے یوں نفرت تجھے بھی ہے

اک موڑ پہ سمجھ گئے دونوں ہی تھے رفیق

رستے بدلتے، رونے کی عادت تجھے بھی ہے

میں اس طرح الگ ہوا کہ ڈھونڈتی رہیں

بچوں کی جیسی ہو کیا ندامت تجھے بھی ہے؟

مجھ سے تو معطر کی کوئی بات نہ کرنا

اس شخص سے کیا ٹوٹ کے چاہت تجھے بھی ہے؟

Leave a Reply