شاعری

عمر بھر ہم رہے شرابی سے

Spread the love

عمر بھر ہم رہے شرابی سے

دل پر خوں کی اک گلابی سے

جی ڈھہا جائے ہے سحر سے آہ

رات گذرے گی کس خرابی سے

کھلنا کم کم کلی نے سیکھا ہے

اس کی آنکھوں کی نیم خوابی سے

برقع اٹھتے ہی چاند سا نکلا

داغ ہوں اس کی بے حجابی سے

کام تھے عشق میں بہت پر میرؔ

ہم ہیں فارغ ہوئے شتابی سے

Leave a Reply

%d bloggers like this: