اسے کہنا جلا دے میرے سب نامے

اسے کہنا جلا دے میرے سب نامے

مٹا دے ہر نشانی پر

میرے لہجے کو

اپنے دل کے ہر گوشے میں وہ رکھے

مسافر ہوں

ہر اک منزل سے مجھ کو لوٹ جانا ہے

ٹھکانہ میں نہیں رکھتا

ہے شہرِ خاموشاں تو کیا

اسے کہنا

اجازت ہے اسے

شیشے ہی توڑے وہ

دریچے بند کر دے

راستے مقفل کرے لیکن

دلِ انمول کا حصہ وہ میرے نام رہنے دے

میرے حصے کی کچھ رسوائیاں ادھار رکھدے وہ

نقابوں میں چھپے چہرے

کبھی اشکار ہو جائیں

تو ہم بیزار ہو جائیں

حقیقت سن نہ پایا میں

فسانہ تو فریبی ہے

اسے کہنا

وہ دل کے پاس ہے میرے

جدا اب ہو نہیں سکتے

میرا ماضی میری مرضی

سبھی اختیار میں میرے

بکھرنا بھول بیٹھے ہیں

بچھڑنا یاد ہے انکو

سراپا حسن ہے شاید

کہ یہ اوہام ہیں سارے

سنا ہے نیند میں آنے کی ضد

وہ اب بھی کرتے ہیں

سنا ہے خط میرے پڑھ کے

انہیں تکلیف ہوتی ہے

ابھی بھی زخم ہیں تازہ

انہیں بھرنے نہیں دیتے

کسی بھی اجنبی کو

دل میں اب رہنے نہیں دیتے

اذیت انکو ہو اور درد کیوں سینے میں ہوتا ہے

اسے کہنا جلا دے میرے سب نامے۔۔۔۔

صاحبِ طرز ادیب، شاعر اور نفسیات دان علی معطر الفاظ سے کھیلنے اور اُنہیں جھیلنے کے عادی ہیں۔ عام زندگی میں جس کی خاموشی ورطہ حیرت میں ڈالتی ہے۔ جب لکھنے پہ آتے ہیں تو الفاظ ہاتھ باندھے قطار اندر قطار نظریات و افکار کے انبار لگا دیتے ہیں۔ نظم و نثر، اُردو، انگریزی اور پشتو زُبان میں بیک وقت لکھنے والے اس بمثال بیتاب روح کے حامل لکھاری سے ہمیں عظیم تخلیقات کی توقع ہے۔ اور اُس نے ہمیں کبھی بھی مایوس نہیں کیا اور اُمید ہے آگے بھی نہیں کریں گے۔ خوابوں میں اور خوابوں کے لیے جینے والے اس ادیب کے الفاظ میں حقیقت کی کاٹ اور سماج کی پرکھ آپ کو الفاظ کے تقدس کی یاد دلانے کے لیئے کافی ہیں۔ ملاحظہ ہو کہ وہ مزید کیا لکھتے ہیں۔

Leave a Reply