kalam e muattar
Urdu,  ادب,  شاعری

اسکی کاجل بھری نگاہوں نے

اسکی کاجل بھری نگاہوں نے

مجھکو مجھ سے چرا کے دیکھا ہے

ٹمٹمائے ہیں آنسوؤں کے دیئے

اس نے مجھکو جلا کے دیکھا ہے

نہیں بِکتا میں، مئے وساغر پہ

کتنی بار یہ پِلا کہ دیکھا ہے

گل کی یہ بے رخی نہیں اچھی

خار نے خود سنا کے دیکھا ہے

مجھے بہار سے امیدیں ہیں

گرچے اس نے بھلا کے دیکھا ہے

زندگی کس قدر ادھوری ہے

موت نے خود بھی آ کے دیکھا ہے

اس معطر نے شاعری میں ہی

خود سے خود کو چھپا کے دیکھا ہے

مخزنِ درد

Senior writer, author, and researcher at AromaNish, specializing in Psychology with an impact on information technology. As a writer, he writes about business, literature, human psychology, and technology, in blogs and websites for clients and businesses. Enjoys reading, writing and traveling when he is not here with us...

Leave a Reply

%d bloggers like this: