kalam e muattar
Urdu,  ادب,  شاعری

اسکی کاجل بھری نگاہوں نے

اسکی کاجل بھری نگاہوں نے

مجھکو مجھ سے چرا کے دیکھا ہے

ٹمٹمائے ہیں آنسوؤں کے دیئے

اس نے مجھکو جلا کے دیکھا ہے

نہیں بِکتا میں، مئے وساغر پہ

کتنی بار یہ پِلا کہ دیکھا ہے

گل کی یہ بے رخی نہیں اچھی

خار نے خود سنا کے دیکھا ہے

مجھے بہار سے امیدیں ہیں

گرچے اس نے بھلا کے دیکھا ہے

زندگی کس قدر ادھوری ہے

موت نے خود بھی آ کے دیکھا ہے

اس معطر نے شاعری میں ہی

خود سے خود کو چھپا کے دیکھا ہے

مخزنِ درد

Leave a Reply