kalam e muattar
Urdu,  ادب,  شاعری

وفا کا درد کارشتہ تجھ سے پرانا ہے

وفا کا، درد کا، رشتہ تجھ سے پرانا ہے

نگاہوں میں ہے جو چہرہ وہ دلبرانا ہے

نہ دل میں کچھ بھی فراہم نہ خُون انکھوں میں

سنو! یہ پیار کا موسم بھی عاشقانہ ہے

یہ جسکی یاد ہے وہ آ کے اسے لے جائے

طبیب کا یہی نسخہ تو طبیبانہ ہے

وہ آنا بند کرے تو یہ سمجھ لینا تم

یہ میرا سانس بھی لینا فقط فسانہ ہے

وہ مجھ سے دور رہے خیر، جس قدر چاہے

بلاآخر تو اسے میرے پاس آنا ہے

میں معطر سے کہوں کیا کہ اُس کے ہاتھوں میں

ہجر، تقدیر کے رازوں کا اک بہانہ ہے

Leave a Reply