وفا کا درد کارشتہ تجھ سے پرانا ہے

وفا کا، درد کا، رشتہ تجھ سے پرانا ہے

نگاہوں میں ہے جو چہرہ وہ دلبرانا ہے

نہ دل میں کچھ بھی فراہم نہ خُون انکھوں میں

سنو! یہ پیار کا موسم بھی عاشقانہ ہے

یہ جسکی یاد ہے وہ آ کے اسے لے جائے

طبیب کا یہی نسخہ تو طبیبانہ ہے

وہ آنا بند کرے تو یہ سمجھ لینا تم

یہ میرا سانس بھی لینا فقط فسانہ ہے

وہ مجھ سے دور رہے خیر، جس قدر چاہے

بلاآخر تو اسے میرے پاس آنا ہے

میں معطر سے کہوں کیا کہ اُس کے ہاتھوں میں

ہجر، تقدیر کے رازوں کا اک بہانہ ہے

صاحبِ طرز ادیب، شاعر اور نفسیات دان علی معطر الفاظ سے کھیلنے اور اُنہیں جھیلنے کے عادی ہیں۔ عام زندگی میں جس کی خاموشی ورطہ حیرت میں ڈالتی ہے۔ جب لکھنے پہ آتے ہیں تو الفاظ ہاتھ باندھے قطار اندر قطار نظریات و افکار کے انبار لگا دیتے ہیں۔ نظم و نثر، اُردو، انگریزی اور پشتو زُبان میں بیک وقت لکھنے والے اس بمثال بیتاب روح کے حامل لکھاری سے ہمیں عظیم تخلیقات کی توقع ہے۔ اور اُس نے ہمیں کبھی بھی مایوس نہیں کیا اور اُمید ہے آگے بھی نہیں کریں گے۔ خوابوں میں اور خوابوں کے لیے جینے والے اس ادیب کے الفاظ میں حقیقت کی کاٹ اور سماج کی پرکھ آپ کو الفاظ کے تقدس کی یاد دلانے کے لیئے کافی ہیں۔ ملاحظہ ہو کہ وہ مزید کیا لکھتے ہیں۔

Leave a Reply