اُردو,  شاعری

وجودِ من

پیار نے زخم دیئے، روح کو آزار کیا

میرے نغموں نے زمانے کو بھی بیدار کیا

بے طلب میں نے زمانے کو دیا گرمئ دل!

جس نے سب کو میری تحریر کا کردار کیا

میں رہا محفلِ دل میں، مثلِ پروانہ

پھر میرے آتشِ دل نے سبکو خودار کیا

میرے لیے تو تھا چمن بھی اک قفس کی طرح

میں نے قفس میں ہی سبکو تھا خبردار کیا

دیا جوان کے دل کو شرر کا ایک ٹکڑا

پھر اسے ظلم کے خرمن کے لیے نار کیا

صاحبِ طرز ادیب، شاعر اور نفسیات دان علی معطر الفاظ سے کھیلنے اور اُنہیں جھیلنے کے عادی ہیں۔ عام زندگی میں جس کی خاموشی ورطہ حیرت میں ڈالتی ہے۔ جب لکھنے پہ آتے ہیں تو الفاظ ہاتھ باندھے قطار اندر قطار نظریات و افکار کے انبار لگا دیتے ہیں۔ نظم و نثر، اُردو، انگریزی اور پشتو زُبان میں بیک وقت لکھنے والے اس بمثال بیتاب روح کے حامل لکھاری سے ہمیں عظیم تخلیقات کی توقع ہے۔ اور اُس نے ہمیں کبھی بھی مایوس نہیں کیا اور اُمید ہے آگے بھی نہیں کریں گے۔ خوابوں میں اور خوابوں کے لیے جینے والے اس ادیب کے الفاظ میں حقیقت کی کاٹ اور سماج کی پرکھ آپ کو الفاظ کے تقدس کی یاد دلانے کے لیئے کافی ہیں۔ ملاحظہ ہو کہ وہ مزید کیا لکھتے ہیں۔

Leave a Reply