Blog Literature Urdu

وقتِ رفتہ

وقتِ رفتہ

محفل بکھر گئے ہیں یہاں، یار بھی گئے

منؔصور بن کے چڑھ گئے تو دار بھی گئے

چوما تھا کسی روز اک پاگل گلاب کو

اب اس کے تازگی کے سب آثار بھی گئے

وہ دور کچھ الگ تھا جس میں ساتھ بیٹھ کر

کرتے تھے پیار، آج وہ گلزار بھی گئے

میں ہوں قفس میں، دور ہوں اپنے چمن سے میں

اب کے تو وہ اقرار و اِنکار بھی گئے

اک مجھ سا معطر تھا جسے ڈھونڈھتا ہوں میں

اب اس کے ہاتھوں سب بنے شاہکار بھی گئے

Leave a Reply

Ready to get started?

Are you ready
Get in touch or create an account.

Get Started