ادب,  اُردو,  انسانی حقوق,  بلاگ,  ذرائع ابلاغ,  رائے,  سیاست,  مذہب,  معاشرہ

ظلم اور دہشت کے خلاف جنگ ابھی جاری ہے

از ازل تا ابد جنگ جاری ہے ہاں جنگ جاری ہے۔۔۔

حق و باطل کی جنگ بغیر کسی وقفے کے جاری ہے۔۔۔
معرکہِ وجود میں صحیح وغلط کی جنگ جاری ہے۔۔۔

افکار کی جنگ جاری ہے۔۔۔

کردار کی جنگ جاری ہے۔۔۔

گفتار کی جنگ جاری ہے۔۔۔

تم کیوں آرام سے بیٹھ گئے ہو کہ جنگ از ہنوز جاری است

ہر زمین کربلا ہے اور کربلا کی جنگ جاری ہے۔۔۔

ہر دن عاشورا ہے اور عاشورا کی جنگ جاری ہے۔۔۔

یہ کیسے تم نے یقین کر لیا ہے کہ حُسیؑن کی جنگ ختم ہو گئی؟

جب تک غدیر اور ولایت کے پرچم اور نظام کا غلبہ نہیں ہو جاتا جنگ جاری ہے۔۔۔

جب تک جہان کے گوش و کنار میں ظُلم اور جبر کا پہرہ ہے جنگ جاری ہے۔۔۔

جب تک مظلوم کو اس کا حق نہیں ملتا جنگ جاری ہے۔۔۔

جب تک مظلوم کی آنکھ پر نم ہے جنگ جاری ہے۔۔۔

ہتھیار رکھنے کا وقت نہیں بلکہ زنگ الود ہتھیار کو صاف کرنے کا وقت ہے کیونکہ جنگ جاری ہے۔۔۔

اس جنگ کے سالار بدلیں گے، میدان اور اوزار بدلیں گے مگر جنگ کو جاری رہنا ہے

دشمن کو دشمن سمجھنا ہے اور ویسے ہی برتاو کرنا ہے

دنیا کے مکر و فریب میں آنے کی ضرورت نہیں ہے مزاکرات، مزاکرات کے جواب میں ہوتے ہیں۔ تیر و تلوار کا جواب تیر و تلوار ہی ہوتا ہے۔۔۔

آذادی پلیٹ میں نہیں پیش کی جاتی اس کے لیے تن من دھن کی قربانی دینی پڑتی ہے

اس کے لیے جیلوں میں سڑنا پڑتا ہے

اس کے لیے در بدر ہونا پڑتا ہے

اس کے لیے تلوار اٹھانی پڑتی ہے

اس کے لیے آئینِ ظُلم توڑنے پڑتے ہیں

اس کے لیے نیند و بھوک و افلاس کو خُوش آمدید کہنا پڑتا ہے۔۔۔۔

جنگِ حق و باطل جاری ہے اور اسے تب تک جاری رہنا ہے جب تک خُدا کا قرآنی وعدہ پورا نہیں ہوجاتا۔ اور وہ وعدہ کیا ہے؟ قران کہتا ہے؛

حق آگیا ہے اور باطل مٹ گیا ہے اور باطل ہے ہی مٹنے کے لیے۔۔۔

بقیہ حصہ دوسری پوسٹ میں ملاحظہ کیجیئے۔۔۔

صاحبِ طرز ادیب، شاعر اور نفسیات دان علی معطر الفاظ سے کھیلنے اور اُنہیں جھیلنے کے عادی ہیں۔ عام زندگی میں جس کی خاموشی ورطہ حیرت میں ڈالتی ہے۔ جب لکھنے پہ آتے ہیں تو الفاظ ہاتھ باندھے قطار اندر قطار نظریات و افکار کے انبار لگا دیتے ہیں۔ نظم و نثر، اُردو، انگریزی اور پشتو زُبان میں بیک وقت لکھنے والے اس بمثال بیتاب روح کے حامل لکھاری سے ہمیں عظیم تخلیقات کی توقع ہے۔ اور اُس نے ہمیں کبھی بھی مایوس نہیں کیا اور اُمید ہے آگے بھی نہیں کریں گے۔ خوابوں میں اور خوابوں کے لیے جینے والے اس ادیب کے الفاظ میں حقیقت کی کاٹ اور سماج کی پرکھ آپ کو الفاظ کے تقدس کی یاد دلانے کے لیئے کافی ہیں۔ ملاحظہ ہو کہ وہ مزید کیا لکھتے ہیں۔

Leave a Reply