Blog Literature Urdu

کیا وصل ہے اورکیا فراق ہے

کیا وصل ہے اورکیا فراق ہے

کیا وصل ہے اورکیا فراق ہے

دونوں شامِ غم کا مزاق ہیں

کہیں روشنی، کہیں زندگی

کہیں زندہ لاشِ قزاق ہے

میں ازل سا ہوں،تو ابد سا ہوں

تیری زلف شامِ حیات ہے

نہ سنبھل سکا نہ بہل سکا

میں ازل سے فتنہ طراز ہوں

تو بہشت کا جامِ آتشیں

جہنمِ شعور کا لباس میں

جانے کیا سے کیا ہے حیات میں

تو یہیں کہیں میری ذات میں

تو شریک بھی نہ جدا ابھی

میں کہاں، کہاں اور کہاں ابھی

غمِ ضبط ہی کیا نشاط ہے

یہ حیات بھی کیا حیات ہے

ایک خوشی ملی تیری ذات سے

میری ذات کے تار بج اُٹھے

میری روح میں تم سماو تو

اپنی ہر ادا، دلِ بے خطا

یہی جرم میری حیات ہے

یا پھر یہی ایک کائنات ہے

ضبط ربط سے ربط ضبط سے

یوں الگ الگ میری ذات میں

دلِ آرزو، غمِ جستجو

شبِ غم نگارِ حیات ہے

میرے ہم نشیں، میرے ہم نوا

میرے خواب و وہم و گمان میں

بس وہی بسا، ہے وہی بسا

تو نہیں بسا بھی تو کیا ہوا

Last Updated on April 15, 2021 by ANish Staff

Leave a Reply