kalam e muattar
Urdu,  ادب,  شاعری

میری برباد محبت کی کہانی ہو تم

میری برباد محبت کی کہانی ہو تم

داغ داغ تار ہو جو، ایسی جوانی ہو تم

تم ہی نے ہاتھ میرا تھام کر کہا تھا یہ

تم مکمل ہوئی بس، کتنی دیوانی ہو تم

چرخ کے تخت نشیں عادلِ ازل کی قسم

خواب ہو، نغمہ ہو، احساسِ روانی ہو تم

تم بدل جاؤ تو پھر شکوہ شکایت کیسی

وفا کے دیس سے باہر کوئی رانی ہو تم

روز ایک سا ہو طلب، روز ایک سا احساس

ایسا لگتا ہے میری پیاس کو پانی ہو تم

سچ ہے جو تم نے کہا، جھوٹ نہ ہم نے بھولا

جانے کیوں پھر بھی یہ لگتا ہے کہانی ہو تم

تم معطر ہو تمہیں اور حکایات سے کیا

جو بھی ہو میری ہو، حاصلِ جوانی ہو تم

Leave a Reply