kalam e muattar
Urdu,  ادب,  بلاگ,  شاعری

وہ نغمۂِ دگرگوں سراب جیسا ہے

وہ نغمۂِ دگرگوں سراب جیسا ہے

جو دل میں لائے نہ شورش، تیزاب جیسا ہے

وہ مست مست نگاہ اور وہ خموشیِ لب

کچھ کچھ ہلے تو بخدا شراب جیسا ہے

وہ بار بار جھپکنا، لپکنا عاشق پر

ذرا تو سوچو، میرا دل کباب جیسا ہے

اعتبار کرکے اُترنا تھا دل کے ساحل پر

مٹا جو اعتبار، قطرہ دریاب جیسا ہے

یہ لب صدیوں سے ہیں پیاسے سیراب کردو تم

لبوں سے لب جو ٹکرائیں، گلاب جیسا ہے

آج بھی دل یہ تڑپتا ہے تجھے پھر دیکھوں

پاس آؤ تو بخدا عذاب جیسا ہے

ایک معطر تیرا طالب ہے، چلے آؤ تم

نغمۂِ شب تو سُناؤں، رباب جیسا ہے

مخزنِ درد

Leave a Reply