وہ نغمۂِ دگرگوں سراب جیسا ہے

وہ نغمۂِ دگرگوں سراب جیسا ہے

جو دل میں لائے نہ شورش، تیزاب جیسا ہے

وہ مست مست نگاہ اور وہ خموشیِ لب

کچھ کچھ ہلے تو بخدا شراب جیسا ہے

وہ بار بار جھپکنا، لپکنا عاشق پر

ذرا تو سوچو، میرا دل کباب جیسا ہے

اعتبار کرکے اُترنا تھا دل کے ساحل پر

مٹا جو اعتبار، قطرہ دریاب جیسا ہے

یہ لب صدیوں سے ہیں پیاسے سیراب کردو تم

لبوں سے لب جو ٹکرائیں، گلاب جیسا ہے

آج بھی دل یہ تڑپتا ہے تجھے پھر دیکھوں

پاس آؤ تو بخدا عذاب جیسا ہے

ایک معطر تیرا طالب ہے، چلے آؤ تم

نغمۂِ شب تو سُناؤں، رباب جیسا ہے

مخزنِ درد

صاحبِ طرز ادیب، شاعر اور نفسیات دان علی معطر الفاظ سے کھیلنے اور اُنہیں جھیلنے کے عادی ہیں۔ عام زندگی میں جس کی خاموشی ورطہ حیرت میں ڈالتی ہے۔ جب لکھنے پہ آتے ہیں تو الفاظ ہاتھ باندھے قطار اندر قطار نظریات و افکار کے انبار لگا دیتے ہیں۔ نظم و نثر، اُردو، انگریزی اور پشتو زُبان میں بیک وقت لکھنے والے اس بمثال بیتاب روح کے حامل لکھاری سے ہمیں عظیم تخلیقات کی توقع ہے۔ اور اُس نے ہمیں کبھی بھی مایوس نہیں کیا اور اُمید ہے آگے بھی نہیں کریں گے۔ خوابوں میں اور خوابوں کے لیے جینے والے اس ادیب کے الفاظ میں حقیقت کی کاٹ اور سماج کی پرکھ آپ کو الفاظ کے تقدس کی یاد دلانے کے لیئے کافی ہیں۔ ملاحظہ ہو کہ وہ مزید کیا لکھتے ہیں۔

Leave a Reply