kalam e muattar
Urdu,  ادب,  شاعری

یارب یہ کیسا مقدر ملا مجھے

یارب یہ کیسا مقدر ملا مجھے

پھولوں کو بو رہا تھا تو پتھر ملا مجھے

اپنے چمن کی ساری رسوائی بھی سہہ گیا

گرچے یہاں بھی کانٹوں کا بستر ملا مجھے

میں نے کتنی چاہی تھی محبت زمین پر

پہنچا جہاں بھی ٹوٹا سا ممبر ملا مجھے

نادان کتنا میں تھا کہ سب کو اپنا سمجھا

بدلے میں اپنے دوستوں سے خنجر ملا مجھے

دو گھونٹ پینے کے لیے جنت بھی چھوڑ دی

پر اس کے بعد اشک کا سمندر ملا مجھے

دنیا کے سارے کھیل تماشے فضول تھے

ہوس کے ڈھیر میں ہر سکندر ملا مجھے

اپنے جنون خیز محبت کے عوض دل

اک پھول ہی سہی پر معطر ملا مجھے

Leave a Reply