Blog Literature Urdu

یارب یہ کیسا مقدر ملا مجھے

یارب یہ کیسا مقدر ملا مجھے

پھولوں کو بو رہا تھا تو پتھر ملا مجھے

اپنے چمن کی ساری رسوائی بھی سہہ گیا

گرچے یہاں بھی کانٹوں کا بستر ملا مجھے

میں نے کتنی چاہی تھی محبت زمین پر

پہنچا جہاں بھی ٹوٹا سا ممبر ملا مجھے

نادان کتنا میں تھا کہ سب کو اپنا سمجھا

بدلے میں اپنے دوستوں سے خنجر ملا مجھے

دو گھونٹ پینے کے لیے جنت بھی چھوڑ دی

پر اس کے بعد اشک کا سمندر ملا مجھے

دنیا کے سارے کھیل تماشے فضول تھے

ہوس کے ڈھیر میں ہر سکندر ملا مجھے

اپنے جنون خیز محبت کے عوض دل اک پھول ہی سہی پر معطر ملا مجھے

Last Updated on April 15, 2021 by ANish Staff

Leave a Reply