Blog Literature Urdu

یار کی دہلیز تک آیا تھا میں

یار کی دہلیز تک آیا تھا میں

پر نہیں معلوم کیوں لوٹا تھا میں

دوقدم آگے نہ جانے کی سزا

دے رہا تھا خود کو یہ سوچھا تھا میں

ناز کے لائق تھا وہ اپنا صنم

یار کی دہلیز پہ رکا تھا میں

سوچتے رہنے کی عادت چھوڑ دی

جب سے اس راز پہ سمجھا تھا میں

پیار کی سبھی راہیں فریب تھیں

حیف! کتنا درد سے تڑپا تھا میں

ساحلوں پہ دھوپ میں کچھ ڈھونڈنے

مثلِ پاگل، آوارہ پھرتا تھا میں

کوئی سیپ موتی سمجھ کے ڈھونڈلی

خود کو جو اک جوہری سمجھا تھا میں

آہ! نادانی تھی میری آہ! دل

یہ جوانی میں کیوں نہ سمجھا تھا میں

پیار کا یہ کھیل ہے جادوگری

اس کے رازوں سے کبھی آگاہ تھا میں

آج اک خلش سی دل میں ہے مگر

پیار کی قسموں میں ہی جھوٹا تھا میں

پیار تو عریاں ہے اپنے راز سے

کسقدر غفلت ہے ناآشنا تھا میں

روز اپنی محبتوں کی قبر پہ

شمع، جلاتے ہوئے کھڑا تھا میں

آج اس بستی سے ہوں میں جا رہا

جس میں روز آتا تھا میں، جاتا تھا میں

بخش دی اپنے ہی دردوں کو سخن

گرچے وہ سمجھا تھا کہ جھوٹا ہوں میں

روز مجھ سے دل میرا کہتا ہے یہ

کس قدر ٹوٹا تھا اور بکھرا تھا میں

میں کسے ہمراز کرتا آہ! دل

اپنے ہاتھوں درد سے الجھا تھا میں

Last Updated on April 15, 2021 by ANish Staff

Leave a Reply