kalam e muattar
Urdu,  ادب,  شاعری

یاد آئے گا مجھے گھر اکثر

یاد آئے گا مجھے گھر اکثر

میرا کمرہ، میری تصویر، میرا آئینہ جسمیں کہ

روز میں دیکھ کہ چہرہ بس یہی سوچتا تھا

کوئی ہے مجھ میں، مجھ ہی کی طرح آوارہ مزاج

لب ہی سوال سے ناآشنا ہیں

تشنہ لب مجھ سے طلب کرتے رہے جام پہ جام

بام پہ دار بنا رکھا ہے ظالم نے میرا

کسے وجود کا ہمراز کروں

کون ہستی کا کاروبار کرے

کون آتش سے کھیلے مثلِ طفل

ناتمام

نوائے راز

Leave a Reply