Blog Literature Urdu

یاد آئے گا مجھے گھر اکثر

یاد آئے گا مجھے گھر اکثر
میرا کمرہ، میری تصویر، میرا آئینہ کہ جس میں
روز میں دیکھ کے چہرہ بس یہی سوچتا تھا
کوئی ہے مجھ میں، مجھ ہی کی طرح آوارہ مزاج
لب ہی سوال سے ناآشنا ہیں
تشنہ لب مجھ سے طلب کرتے رہے جام پہ جام
بام پہ دار بنا رکھا ہے ظالم نے میرا
کسے وجود کا ہمراز کروں؟
کون ہستی کا کاروبار کرے؟
کون آتش سے کھیلے مثلِ طِفل؟
کون دل کو میرے پھر شاد کرے؟
کون فرہاد بنے پھر کوئی فریاد کرے؟
کوئی شریں بنے فرہاد کو آزاد کرے؟
کوئی سوہنی ہے جو ماہیوال کو ناشاد کرے؟
کوئی دھرتی ہے جو بچوں کو یوں برباد کرے؟
کوئی ہستی ہے جو دل کی صدا سُنے ہی نہیں؟
کوئی جوگی ہے جو رقصِ جہاں سے بات کرے؟
کوئی صوفی ہے جو خرقہ پوشی پہ ناز کرے؟
کوئی مُلا ہے جو دیرینہ راز فاش کرے؟
کوئی منصوؔر ہے جو دار کو بدنام کرے؟
کوئی شبلیؔ ہے جو جام لُٹائے پل پل؟
کوئی بہزاؔد ہے جو نقش اُتارے دل کا؟
کوئی رومؔی ہے جو آتش کا کاروبار کرے؟
کوئی نانکؔ ہے جو لفظوں کے گیت گاتا رہے؟
کوئی سرؔمست ہے جو مست ہے الست سے یہاں؟
کوئی سرمدؔ ہے جو عریاں ہے نگاہوں میں میرے؟
کوئی سقراطؔ ہے جو زہر کا پیالہ دے دے؟
کوئی زرتشتؔ ہے جو خوابوں پہ ہی مجبور کرے؟
کیا سکندرؔ ہے کوئی جو مجھے دے حوصلہِ دل؟
کیا کوئی خضرؔ ہے جو رہبری کرے میری؟
ہے براہیمؔ جو ذات کے سب بُت توڑے؟
کوئی آذرؔ ہے جو پیدا کرے نئے مندر؟
کوئی ارجُنؔ ہے جو آنکھوں کو ہی شکار کرے؟
کوئی بدھاؔ ہے جو خاموشی کے اسرار کہے؟
کوئی والیل کے زُلفوں کے سِر بتائے کوئی
کوئی حیدرؔ کے تنہائی کی بھی تو بات کرے؟
کوئی ہے جو مجھے حیات سے بیزار کرے؟
دل کے بازار میں اپنا ہی خریدار کرے؟
۲۶ نومبر ۲۰۱۹

Last Updated on April 15, 2021 by ANish Staff

Leave a Reply