ادب,  اُردو,  شاعری

یعنی جو تم نے یہ کہہ دیا ہے

کہ تجھ کو چھوڑوں میں خُود کو توڑوں

جو خُواب دیکھے ہیں نہ ابد کے

وہ خُواب چھوڑوں

نقاب کرنے دوں اس ظُلم کو

تیرے ستم کو ، ہر اک قسم کو

میں بھول جاؤں سبھی باتیں

میں بھول جاؤں کہ جانتا ہوں

تمہاری آنکھوں میں جو چھپا ہے

تمہارے گھر کا پتا بھی کیا ہے

یعنی کہ خُود کو ہی بھول جاؤں

اور گنگناؤں

میں گمراہوں سے جا ملا ہوں

کیا پیار یونہی تاوان لے گا

جو کچھ ہے میرا وہ جان لے گا

یعنی کہ میں اب کچھ نہیں ہوں

یعنی کہ دھرتی کا بوجھ ہوں میں

چلو یہ مانا کہ میں نے جانا

جو تم نے مجھ سے کہا وہ سب کچھ

اک تازیانہ بہ ایں دیوانہ

یعنی کہ مجھ سے جو کچھ بھی مانگا

تمہیں دیا ہے، تمہیں گلہ ہے

کہ انتہا میں نہ مجھ کو مجھ سے الگ کروگی

نہ مجھ سے کچھ بھی تو تم کہو گی

کیا بھول بیھٹی ہو میرے ضِد کو

میری انا کو، اپنی وفا کو؟

تمہیں بتایا تو تھا یہ میں نے

تم تھک کے ہار کے گھر چلو گی

مگر تمہارا گھمنڈ تھا یہ

میں تم سے ہارا تو میں تمہارا

اور جو تم ہاری تو سب کچھ ہارا

عبث ہیں ماضی کے سارے قصئے

عبث ہیں دردوں میں اپنے حصے

قبول ہے جو کہ تم نے بولا

اگرچے تم نے نہ اس کو تولا

مگر میں کہدوں قبول ہے سب

جو کچھ کہوگی فضول ہے سب

سو تمہیں رُخصت کی ہے تمنا

چلو کہ آزاد ہو تم اب سے

نہ کوئی تم کو آواز دے گا

نہ کوئی بھی اب تمہیں ڈھونڈے گا

نہ کوئی سانسوں میں نام لے گا

نہ کوئی تم سے اب کچھ کہے گا

نہ کوئی اس دل پہ اعتبار کرے گا

تمہیں مبارک ہو جان میری

نہ تمہیں اب کوئی جاں کہے گا

ہمارا وعدہ، وعدہ رہےگا

تمہارا وعدہ، گواہ رہےگا

صاحبِ طرز ادیب، شاعر اور نفسیات دان علی معطر الفاظ سے کھیلنے اور اُنہیں جھیلنے کے عادی ہیں۔ عام زندگی میں جس کی خاموشی ورطہ حیرت میں ڈالتی ہے۔ جب لکھنے پہ آتے ہیں تو الفاظ ہاتھ باندھے قطار اندر قطار نظریات و افکار کے انبار لگا دیتے ہیں۔ نظم و نثر، اُردو، انگریزی اور پشتو زُبان میں بیک وقت لکھنے والے اس بمثال بیتاب روح کے حامل لکھاری سے ہمیں عظیم تخلیقات کی توقع ہے۔ اور اُس نے ہمیں کبھی بھی مایوس نہیں کیا اور اُمید ہے آگے بھی نہیں کریں گے۔ خوابوں میں اور خوابوں کے لیے جینے والے اس ادیب کے الفاظ میں حقیقت کی کاٹ اور سماج کی پرکھ آپ کو الفاظ کے تقدس کی یاد دلانے کے لیئے کافی ہیں۔ ملاحظہ ہو کہ وہ مزید کیا لکھتے ہیں۔

Leave a Reply